تہران :سلطنتِ عمان اور ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق معاہدے کے بنیادی نکات پر متفق۔ العربیہ کے مطابق اس معاہدے کا باضابطہ اعلان آئندہ چند روز میں متوقع ہے، تاہم اس کے لیے ابھی ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی منظوری درکار ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق مجوزہ معاہدہ 60 دن کے لیے ہوگا، جس کا مقصد اس اہم آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت کو دوبارہ بحال کرنا ہے۔
معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے بحری جہاز ایران کے قریب واقع بحری راستہ استعمال کریں گے، جبکہ آبنائے سے باہر نکلنے والے جہاز سلطنتِ عمان کے قریب واقع بحری راستے سے گزریں گے۔
اعلیٰ ذرائع نے واضح کیا کہ مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کسی قسم کی راہداری فیس یا خدمات کے عوض کوئی معاوضہ عائد نہیں کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق بعض علاقائی ممالک آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے اور بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے ضروری تکنیکی اقدامات میں بھی حصہ لے سکتے ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدے کی منظوری کے بعد امریکا اور ایران جون گزشتہ میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) کی طرف واپس جائیں گے اور اس کی شق نمبر 5 پر عمل درآمد شروع کریں گے۔
ان کے مطابق ہرمز سے متعلق 60 روزہ معاہدے کا مقصد تعطل ختم کرنا اور واشنگٹن و تہران کے درمیان تکنیکی مذاکرات کا دوبارہ آغاز کرنا ہے۔
اعلیٰ ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ثالث ممالک کے ذریعے بالواسطہ رابطے جاری ہیں اور یہ رابطے اب اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حال ہی میں آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے دو مرتبہ ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ اس ہفتے کے آخر یا آئندہ ہفتے کے آغاز میں اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔
دریں اثناالعربیہ اور الحدث کو اعلیٰ ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی حکام تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری مذاکرات کی تازہ پیش رفت سے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو بھی آگاہ کریں گے۔

