کراچی: پاکستان میں پہلی بار ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹرز، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور آن لائن کمیونٹیز کی گراں قدر خدمات کو سراہنے اور انہیں قومی سطح پر پذیرائی بخشنے کے لیے ’پاکستان انفلوئنسر ایوارڈز‘ (Pakistan Influencer Awards) کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ کراچی میں منعقدہ ایک پروقار افتتاحی تقریب میں میڈیا، مارکیٹنگ، اشتہارات، نامور برانڈز اور ڈیجیٹل انڈسٹری سے وابستہ سرکردہ شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
ڈیجیٹل معیشت اور کریئیٹر اکانومی کا فروغ: تقریب کے دوران پاکستان میں تیزی سے ابھرتی ہوئی ’کریئیٹر اکانومی‘ پر مفصل گفتگو کی گئی جسے ڈیجیٹل معیشت کا ایک ناگزیر اور انتہائی اہم حصہ قرار دیا گیا۔ منتظمین کے مطابق اس پلیٹ فارم کا مقصد ایسے تخلیق کاروں (Creators) کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے جو معلوماتی، تعلیمی، تفریحی اور بامقصد مواد کے ذریعے عوام سے گہرا رابطہ قائم کیے ہوئے ہیں اور مثبت آن لائن کمیونٹیز کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
چیف کیوریٹر طلحہ اسلم کا موقف: اس موقع پر پاکستان انفلوئنسر ایوارڈز کے چیف کیوریٹر ’طلحہ اسلم‘ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس پلیٹ فارم کا مقصد محض ایوارڈز تقسیم کرنا نہیں ہے، بلکہ کریئیٹر اکانومی کے لیے ایسے اعلیٰ معیارات قائم کرنا ہے جن پر تخلیق کاروں کے ساتھ ساتھ برانڈز اور عام عوام بھی مکمل اعتماد کر سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یہ پلیٹ فارم شفافیت، ذمہ دارانہ اثرورسوخ (Responsible Influence) اور معیاری مواد کو فروغ دے کر پاکستانی کریئیٹرز کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
ڈیٹا اور شفاف جانچ کا منفرد نظام: منتظمین نے واضح کیا کہ ان ایوارڈز میں کامیابی کا فیصلہ روایتی طریقوں یعنی صرف فالوورز، ویوز یا لائکس کی تعداد پر نہیں ہوگا؛ بلکہ مواد کے معیار، حقیقی اثر، ساکھ، ناظرین کی بامعنی شمولیت، تخلیقی صلاحیت اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل کردار کو باریک بینی سے جانچا جائے گا۔ اس شفاف عمل کو یقینی بنانے کے لیے معروف ریسرچ ادارے ’اِپسوس پاکستان‘ (Ipsos Pakistan) نے تقریب میں ایوارڈز کے ریسرچ، آڈٹ اور شفافیت کے فریم ورک پر تفصیلی بریفنگ بھی دی۔
نامزدگی کا طریقہ کار اور کیٹیگریز: آفیشل ویب سائٹ کے مطابق یہ ایک قومی سطح کا پروگرام ہے جس کے تحت یوٹیوب، ٹک ٹاک، انسٹاگرام، فیس بک، لنکڈ اِن، پوڈکاسٹس اور بلاگز جیسے تمام بڑے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر متحرک کریئیٹرز کو مختلف کیٹیگریز میں اعزازات سے نوازا جائے گا۔ عوام کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ آفیشل ویب سائٹ کے ذریعے اپنے پسندیدہ تخلیق کاروں کو نامزد کر سکیں، جس کے بعد شارٹ لسٹنگ اور کڑی جانچ پڑتال کے مراحل طے کیے جائیں گے۔
نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع: حالیہ چند برسوں میں پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے لاکھوں نوجوانوں کے لیے روزگار، کاروبار اور ذاتی برانڈ بنانے کے شاندار دروازے کھولے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اب کارپوریٹ سیکٹر اور برانڈز بھی روایتی اشتہارات کی نسبت انفلوئنسر مارکیٹنگ کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔ ’پاکستان انفلوئنسر ایوارڈز‘ کا یہ اقدام اسی بدلتے ہوئے ڈیجیٹل منظرنامے کی بھرپور عکاسی کرتا ہے جو ملک میں مثبت گفتگو اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل صحافت و تفریح کو مزید مستحکم کرے گا۔

