نئی دہلی :بھارت میں امتحانی پرچے لیک ہونے کے خلاف ملک گیر احتجاج کی قیادت کرنے والی نوجوانوں کی تنظیم ‘جنریشن زی کاکروچ جنتا پارٹی’ نے فوری طور پر انتخابی سیاست میں حصہ نہ لینے کا حتمی اعلان کر دیا ہے۔ تنظیم کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ اس وقت ان کی اولین ترجیح نوجوانوں کے دیرینہ مسائل کو اجاگر کرنا اور ایک مضبوط عوامی تحریک کو آگے بڑھانا ہے، نہ کہ سیاسی جماعت بنا کر انتخابات کے دنگل میں کودنا۔
#WATCH | Chhatrapati Sambhaji Nagar, Maharashtra | On being asked if he will start a political party, Cockroach Janta Party (CJP) Founder Abhijeet Dipke says, "Our movement was successful because people rose above their own ideologies and political party lines to come together… pic.twitter.com/xQqgNBjzKk
— ANI (@ANI) August 5, 2026
ابھیجیت دیپکے کے مطابق، تنظیم کی جانب سے ایک دو روزہ اہم اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے جس میں ملک بھر سے آنے والے نوجوان یہ مشاورت کریں گے کہ آئندہ کن بنیادی مسائل پر توجہ مرکوز کی جائے اور تحریک کو کس نہج پر چلایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ جنریشن زی خود اپنی ترجیحات کا تعین کرے، البتہ مستقبل میں اگر عوام کی اکثریت نے چاہا تو سیاسی جماعت بنانے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ابھیجیت دیپکے (جو امریکہ سے تعلیم مکمل کرکے جون میں بھارت واپس آئے تھے) کی قیادت میں گزشتہ ماہ نئی دہلی میں شروع ہونے والا پرچہ لیک مخالف احتجاج پورے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا تھا، جس میں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ اور نوجوان شریک ہوئے۔ اس شدید عوامی دباؤ کے نتیجے میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو 25 جولائی کو اپنے منصب سے استعفیٰ دینا پڑا تھا، جبکہ حکومت نے امتحانی نظام کی اصلاح کے لیے کمیٹی بنانے اور قصواروں کے خلاف سخت قوانین کا اعلان کیا تھا۔
دیپکے نے انکشاف کیا کہ وہ فی الحال سیاسی جماعت اس لیے نہیں بنانا چاہتے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ حکومت اس کے رہنماؤں کے خلاف نیب یا دیگر اداروں کے ذریعے تحقیقات شروع کر کے اس نچلی سطح کی عوامی تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کی تنظیم کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت نہیں کرے گی، اگرچہ اپوزیشن نے اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کی۔ سوشل میڈیا پر ملنے والی دھمکیوں کے بعد ان کے گھر کے باہر پولیس سکیورٹی بھی تعینات کر دی گئی ہے۔
سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ یہ تحریک فی الحال انتخابات سے دور ہے، لیکن اگر یہ نوجوانوں کے حقوق کی جنگ اسی طرح جاری رکھتی ہے تو یہ مستقبل میں (بالخصوص 2029 کے عام انتخابات میں) حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے لیے ایک بہت بڑا سیاسی چیلنج بن کر ابھر سکتی ہے۔

