کوئٹہ / تربت:صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ (ایران سے متصل سرحد کے قریب) سے دو روز قبل اغوا کیے جانے والے چھ مزدوروں کی گولیاں مار کر قتل کی گئی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ اس اندوہناک واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق تمام مقتولین مزدور پیشے سے تعلق رکھتے تھے جنہیں نامعلوم مسلح افراد نے بہیمانہ طریقے سے نشانہ بنایا ہے۔ محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے ترجمان اور معاونِ میڈیا بابر یوسفزئی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ معصوم مزدوروں کے خون سے کھیلنے والے ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
پولیس کے مطابق تمام چھ افراد کی لاشیں ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت کے قریب ناصر آباد کے علاقے سے ملی ہیں، جنہیں فوری طور پر قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کر دیا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ کے مطابق ان بدقسمت مزدوروں کو محض دو روز قبل تربت کے قریب علاقے ’کلاتک‘ سے اغوا کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ دو روز قبل مجموعی طور پر سات مزدوروں کے اغوا کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جن میں سے ایک مزدور کو مسلح ملزمان نے اغوا کے فوری بعد ہی قتل کر دیا تھا، جبکہ اب باقی ماندہ چھ افراد کی لاشیں بھی مل گئی ہیں۔
سرکاری حکام کے مطابق جن چھ مزدوروں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں ان میں سے چار کا تعلق صوبہ پنجاب جبکہ دو کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے
ضلع کیچ سے دو روز قبل اغوا ہونے والے چھ مزدوروں کی لاشیں برآمد، چار کا تعلق پنجاب دو خیبرپختونخوا سے ہیں

