بلوچستان رحمت اللہ بلوچ بیوروچیف بے نقاب نیوز)
سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کی سڑکوں پر ریاستی سرپرستی میں جرائم پیشہ لوگوں کو آزاد چھوڑ کر قومی جدوجہد کو کرمنلائز طریقے سے روکنے کی کوشش کی جارہی ہے،سماج اور ریاستی اختیار پر کنٹرول کیلئے ریاستی اداروں کے دروازے ان جرائم پیشہ افراد کیلئے کھلے ہیں جو اپنی قومی روایات کو پامال ، سرزمین کو نقصان پہنچائیں۔یہ بات انہوںنے گزشتہ روز سراوان ہاﺅس میں مکران ڈویژن سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکنوںکی فکری نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے بلوچستان کے موجودہ حالات کو سالہا سال کے استحصال اور نوآبادیاتی ذہنیت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے مزید کہا ہے کہ ریاست نے سیاسی جماعتوں میں اپنے سہولت کاروںکو شامل کرکے ان کرپٹ عناصر کے ذریعے قومی اور سیاسی اہداف کے حصول کیلئے ہونیوالی سیاسی جدوجہد کو ٹھیکیداری نظام اور پی ایس ڈی پی کے ذریعے برباد کیا ،سیاسی عمل کو آلودہ کرنے کے بعد اب قومی جدوجہد کو برباد کرنے کیلئے سڑکوں پر ریاستی سرپرستی میں جرائم پیشہ لوگوں کو آزاد چھوڑ کر قومی جدوجہد کو کرمنلائز طریقے سے روکنے کی کوشش کی جارہی ہے ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ عام لوگ اپنے قومی سیاسی اہداف اور حقوق حاصل کرنے کیلئے ان لوگوںپر نظر رکھیں جنہوںنے سڑکوں کوکرمنلائزکیا اورلوگ سڑکوں پر عدم تحفظ کا شکار ہیںصوبے کی روایات کے برعکس خواتین اور بچوں پر بھی حملے کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ عام لوگوں، سیاسی کارکنوں اور مقامی انتظامیہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان کرمنلز کو سماج سے باہر نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں بصورت دیگر قومی حقوق کی بجائے ایک کرمنلائز معاشرہ تشکیل دیا جائیگا جوریاست کے فائدہ اور مقامی لوگوں کے نقصان میں ہوگا۔سماج اور ریاستی اختیار پر کنٹرول کیلئے ریاستی اداروں کے دروازے ان جرائم پیشہ افراد کیلئے کھلے ہیں جو اپنی قومی روایات کو پامال ، سرزمین کو نقصان پہنچائیں۔ جرائم پیشہ افراد کے ذریعے ریاست نے لوگوں کو یرغمال بنایا ہے اس کیخلاف ایک منظم آواز اور جدوجہد کی ضرورت ہے تاکہ اس سرزمین کو درپیش بحرانوں سے باہر نکال کر آئندہ نسلوں کی بقائ، ترقی اور خوشحال کیلئے اپنا کردار ادا کریں


