لاہور:پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں ریپ، بچوں سے جنسی زیادتی اور بدعنوانی جیسی گھناؤنی برائیوں میں ملوث عناصر کے گرد گھیرا مزید تنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس عزم کا اظہار وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے امن و امان کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران کیا گیا، جہاں صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور جرائم کے خاتمے کے لیے فول پروف پلان طلب کر لیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ "خواتین اور بچے میری ریڈ لائن ہیں، اور ان کے خلاف ہونے والے جرائم پر کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی بلکہ ‘زیرو ٹالرنس’ کی پالیسی اپنائی جائے گی۔” انہوں نے ہدایت کی کہ موبائل پولیس اسٹیشنز کو براہِ راست شہریوں کی دہلیز تک پہنچایا جائے تاکہ جو شہری خود تھانے تک نہیں آ سکتا، پولیس اس کے گھر جا کر اس کی داد رسی کو یقینی بنائے۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پنجاب کے 43 اضلاع میں سیف سٹی پراجیکٹ کا کام مکمل ہو چکا ہے اور اس کا باضابطہ افتتاح جلد متوقع ہے۔ اس کے علاوہ سیف سٹی پروجیکٹ کی دائرہ کار کو مزید 98 تحصیلوں اور حساس کچے کے علاقوں تک پھیلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ لاہور میں دو ہزار سے زائد نئے سیف سٹی کیمرے نصب کرنے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔ پولیس اہلکاروں کی کارکردگی اور شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے ستمبر کے پہلے ہفتے تک 29 ہزار باڈی کیمرے فراہم کر دیے جائیں گے۔
امن و امان کے دیگر اقدامات کے حوالے سے بتایا گیا کہ سی ٹی ڈی (CTD) میں توہینِ رسالت کی آن لائن و ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے لیے ایک خصوصی سیل قائم کر دیا گیا ہے، جبکہ سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک الگ خصوصی ‘سائبر یونٹ’ بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف جاری آپریشن کا جائزہ بھی لیا گیا۔ بتایا گیا کہ صوبے بھر سے اب تک 1 لاکھ 39 ہزار سے زائد غیر قانونی مقیم افراد کو واپس بھیجا جا چکا ہے، جن میں رواں سال 2026 کے دوران 23,243 غیر قانونی باشندوں کی ڈی پورٹیشن شامل ہے، جبکہ ساڑھے 12 لاکھ افراد کی بائیومیٹرک اور دستاویزی تصدیق کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔
مذہبی ہم آہنگی اور فلاحی اقدامات کے تحت صوبے بھر میں 72 ہزار سے زائد رجسٹرڈ آئمہ کرام کے لیے 10 ارب روپے کے فنڈز جاری کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کے آخر میں ایم ڈی کیٹ (MDCAT) کے امتحانات کے شفاف اور پرامن انعقاد کے لیے تمام تر انتظامی انتظامات مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔

