بلوچستان رحمت اللہ بلوچ بیوروچیف بے نقاب نیوز)
گزشتہ مالی سال میں محکمۂ صحت بلوچستان کو اصل بجٹ کے علاوہ 5 ارب 40 کروڑ روپے بطور نظرِ ثانی شدہ اضافی فراہم کیے گئے۔ یہ ایک بہت بڑی رقم ہے، جو ابتدائی بجٹ کا حصہ نہیں تھی بلکہ دورانِ سال مزید جاری کی گئی۔
اب سوال یہ ہے کہ اتنی خطیر اضافی رقم خرچ ہونے کے بعد صحت کے شعبے میں کون سا انقلابی قدم اٹھایا گیا؟ کیا سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی سہولیات نمایاں طور پر بہتر ہوئیں؟ کیا ادویات کی قلت ختم ہوگئی؟ کیا جدید طبی آلات فراہم کیے گئے؟ کیا دور دراز علاقوں میں عوام کو بہتر طبی خدمات میسر آئیں؟ اور سب سے بڑھ کر، اس اضافی سرمایہ کاری کے نتیجے میں عام شہری کو کیا عملی فائدہ پہنچا؟
اضافی 5.404 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے، ان سے کون سے منصوبے مکمل ہوئے، اور ان کے نتیجے میں صحت کے شعبے میں کیا قابلِ پیمائش بہتری آئی۔ اگر واقعی ان فنڈز سے نمایاں نتائج حاصل ہوئے ہیں تو عام کیسز کے مریض کیوں دوسرے ہسپتالوں میں ریفر کئے جارہے ہیں ، اور اگر نتائج توقعات کے مطابق نہیں ہیں تو اس ان کا احتساب کون کرے گا؟
سوال صرف یہ نہیں کہ کتنی رقم خرچ ہوئی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس رقم سے عوام کی صحت میں کتنی بہتری آئی.


