نیویارک:امریکی ریاست نیویارک کے ایک ہائی اسکول میں تدریسی عمل کے لیے ہیومنائیڈ (انسان نما) روبوٹ اور اے آئی اسسٹنٹ متعارف کرانے کے فیصلے پر اساتذہ، والدین اور مقامی کمیونٹی کی طرف سے شدید احتجاج اور تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، یہ متنازع پائلٹ پروگرام نیویارک کے علاقے سالامانکا (Salamanca) ہائی اسکول میں شروع کیا جا رہا ہے، جو کہ سینیکا نیشن کی ایلیگنی ٹیریٹری پر واقع ہے اور اس اسکول میں مقامی امریکی (نیٹو امریکن) طلباء کی بڑی تعداد (تقریباً 40 فیصد) زیرِ تعلیم ہے۔ اسکول ڈسٹرکٹ نے 57,590 ڈالر کی لاگت سے ‘سلی’ نامی روبوٹ خریدا ہے، جسے ’ریئل بوٹکس‘ نامی کمپنی نے تیار کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ روبوٹ اور اے آئی اسسٹنٹ طلباء کو ذاتی نوعیت کی تعلیم فراہم کرے گا اور قدرتی گفتگو اور چہرے کے تاثرات کے ذریعے سیکھنے کے عمل کو بہتر بنائے گا۔
تاہم، سالامانکا ٹیچرز ایسوسی ایشن کی صدر لیسی پِہلبلڈ اور نیویارک اسٹیٹ یونائیٹڈ ٹیچرز کی صدر میلنڈا پرسن نے اس قدم کی سخت مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسکولوں کو اسکرینوں، الگورتھمز اور بے جان مشینوں کی نہیں بلکہ زیادہ دلسوز انسانوں اور حقیقی انسانی رابطے کی ضرورت ہے۔ اساتذہ نے کمپنی کے پس منظر، ڈیٹا کی سیکیورٹی اور سافٹ ویئر کی ریکارڈنگ کی صلاحیتوں پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پروگرام کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب، مقامی نیٹو امریکن کمیونٹی اور والدین نے اسکول کے انتخاب پر بھی شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تاریخی طور پر دباؤ کا شکار اور مقامی امریکی بچوں کی بڑی تعداد والے اسکول کو اس قسم کے تجربات کے لیے چننا انتہائی احمقانہ اور ثقافتی طور پر حساسیت سے عاری فیصلہ ہے۔ بعض مقامی افراد نے اسے ماضی کے تلخ تجربات اور جبری اسکولنگ (Indian boarding schools) کی یاد تازہ کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
اسکول ڈسٹرکٹ اور رئیل بوٹکس کے ترجمان کا موقف ہے کہ یہ پائلٹ پروگرام STEM نصاب کا حصہ ہے اور اس کا مقصد اساتذہ کی جگہ لینا نہیں بلکہ طلباء کو جدید ٹیکنالوجی تک مانیٹرڈ رسائی دینا ہے۔ دوسری طرف، نیویارک اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ آف ایجوکیشن نے بھی اسکول ڈسٹرکٹ سے رابطہ کر کے طلباء کی پرائیویسی اور پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

