سیالکوٹ۔سلیم احمد اعوان شیخو
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ 1947ء میں پاکستان میں آباد مہاجرین جمع کشمیر نے خون کی لکیر کوعبور کیا اڑھائی لاکھ جانوں کو قربان کر کے پاکستان پہنچے آزاد جموں و کشمیر اور پاکستانی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ترقی کی بات کریں اور جموں و کشمیر کے پاکستان میں بسنے والے مہاجرین کو نظر انداز نہ کریں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے سیالکوٹ میں ریاست آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے سلسلہ میں حلقہ ایل اے 36 جموں 3 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار احسن حافظ رضا کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔خواجہ آصف نے کہا کہ ایک گروہ نے پیپلز پارٹی اور پاکستانی حکومت کو بلیک میل کر کے 25 ارب روپے بھتہ وصول کیا ہے گزشتہ 78سالوں میں الیکشن میں تضاد ضرور آتا رہا ہے لیکن اب الیکشن کمیٹی بنا کر پاکستان میں بسنے والے جموں و کشمیر کے مہاجرین کو ایشو بنایا گیا حالانکہ ان مہاجرین نے اپنے مال و جان کی قربانیاں دی ہیں ان مہاجرین کے بچوں کو ذبح کیا گیا آزاد کشمیر میں کچھ ایسے علاقے ہیں جن کے ساتھ آزاد لگتا ہے لیکن انہوں نے قربانیاں نہیں دیں اسی طرح کشمیر کے بہت سے علاقے ہیں جنہوں نے جانوں کی قربانیاں دی جنہوں نے آزاد جموں و کشمیر کے لئے قربانیاں نہیں دیں وہ مہاجرین کی سیٹیں ختم کرنا چاہتے ہیں ان کی آدھی سے زیادہ آبادی بیرون ملک مقیم ہے جو وہاں سے فنڈگ کرتے ہیں جو زبان الیکشن کمیٹی کے ارکان بولتے ہیں وہ زبان بھارت والے بھی نہیں بولتے ہماری فوج اور پولیس کے ملازمین آزاد جموں و کشمیر میں شہید ہوئے جبکہ مذمت اور یکجہتی کی آواز صرف مسلم لیگ ن کی طرف سے آئی آزاد جموں و کشمیر حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں نے مصلحت سے کام لیا ان کی مصلحت نے نام نہاد الیکشن کمیٹی کو تقویت بخشی اس کا مفاد صرف ہندوستان کو جاتا ہے۔پاکستان میں جوں و کشمیر کے مہاجرین کی سیٹیں ختم نہیں ہوں گی اس کو متنازعہ بنانے کے پیچھے ایک سازش ہے اس کے پیچھے ایک بد نیتی موجود ہے یہ پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کا رشتہ ختم کرنا چاہتے ہیں جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں بھی عوام کے سامنے یہ سوال رکھا جا رہا ہے۔ ان سیٹوں پر مسلم لیگ ن کی کامیابی گواہی ہو گی کہ آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان کے رشتے کے تقدس کو سمجھتے ہیں یہ ریفرنڈم ہے اس پر مسلم لیگ ن کا واضع اسٹینڈ ہے دیگر جماعتیں آزاد جموں و کشمیر کے مسائل کی بجائے دوست ایشوز پر بات کر رہے ہیں پاکستان تو جموں و کشمیر کے لئے قربانی دے رہاہے اس میں کشمیریوں کا خون ضرور شامل ہے لیکن پاکستان کے ہر صوبے کے جوانوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں۔جو کوئی جموں و کشمیر اور پاکستان کے رشتے کو چیلنج کرے گا ہم اور مہاجرین مل کر اس رشتے کی حفاظت کریں گےیہ ایک سیاسی ایشو نہیں بلکہ ہمارے وجود کا مسئلہ ہےاسی ایک نقطے پر ہم الیکشن لڑ رہے ہیں۔

