مسقط/واشنگٹن:عمان کی ثالثی میں خلیج فارس میں واقع اہم بحری گزرگاہ ’تخلیۂ ہرمز‘ (Strait of Hormuz) کو دوبارہ کھولنے کے لیے عمان اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں مثبت پیش رفت کا سلسلہ جاری ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق خطے کے دو باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ عمان اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز اور ان کے متعلقہ علاقائی آبی گزرگاہوں کو کھولنے کے حوالے سے ہونے والی بات چیت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، تاہم حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارت کاری کو "مزید وقت” کی ضرورت ہے۔
ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ عمانی حکام کے جمعہ کے روز تہران کے دورے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فضائی حملوں میں وقفے (Bombing Pause) کا اعلان اچانک نہیں بلکہ مکمل طور پر "دانستہ اور ارادی” تھا، تاکہ اس نازک اور روبرو سفارتی عمل میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس اور سینٹکام (CENTCOM) نے ان مذاکرات پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے تاہم اس پر باضابطہ تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ڈنر کے دوران اپنے بیان میں اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران "معاہدہ کرنے کا خواہشمند” ہے، لیکن "مجھے نہیں لگتا کہ وہ ابھی تیار ہیں۔ ابھی وقت نہیں آیا، لیکن میں سننے کے لیے تیار ہوں۔”
اس غیر یقینی صورت حال میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے اگلے ہفتے واشنگٹن کا دورہ کرنے والے ہیں۔ واضح رہے کہ اسرائیل، جس نے 28 فروری کو امریکا کے ساتھ مل کر اس جنگ کا آغاز کیا تھا، ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کو مؤثر طریقے سے بند کیے جانے کے بعد، امریکا کے تازہ حملوں سے نمایاں طور پر غائب رہا ہے۔
ثالثی کی کوششوں میں شامل ایک علاقائی اہلکار نے بتایا کہ مربوط سفارت کاری جاری ہے اور امریکی افواج کی میزبانی کرنے والے پڑوسی ممالک پر امریکی حملوں اور ایرانی جوابی حملوں میں وقفہ ایک "مثبت سگنل ہے جو کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔”
اہلکار نے کہا کہ امریکا اور ایران دونوں عبوری جنگ بندی کے معاہدے پر واپس جانا چاہتے ہیں اور ایک سمجھوتہ، جس پر ابھی بات چیت چل رہی ہے، اس بات کے گرد گھومتا ہے کہ ایران جہازوں پر کم پابندیوں کے ساتھ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت کا انتظام و انصرام کرے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے بعد سفارتی سطح پر ہونے والی اس پیش رفت کا بنیادی ڈھانچہ مسقط کے روایتی چینل کے ذریعے تشکیل پا رہا ہے، جہاں ماضی میں بھی اہم جوہری مذاکرات کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اس مجوزہ بندوبست کے تحت عمان اور ایران پہلے اپنے آبی راستوں کے معاملات طے کریں گے جنہیں بعد میں صدر ٹرمپ قبول یا مسترد کرنے کا فیصلہ کریں گے۔ اس فارمولے سے تہران کو براہِ راست امریکا سے بات چیت کیے بغیر مذاکرات کا راستہ مل رہا ہے۔
اندرونی مشاورت پر بات کرنے کے لیے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ ٹرمپ نے جمعہ کو قومی سلامتی کے اعلیٰ معاونین سے ملاقات کی تاکہ ایران کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے اور یہ طے کیا جا سکے کہ آیا انتظامیہ کو موجودہ رخ برقرار رکھنا چاہیے یا فوجی حملوں میں تیزی لانی چاہیے۔ واضح رہے کہ ایران میں مسلسل 13 راتوں کے بعد پہلی بار رات بھر کوئی امریکی فضائی حملہ نہیں ہوا۔
ٹرمپ نے جمعہ کو اس بات پر اصرار کیا کہ وہ آنے والے انتخابات کی وجہ سے معاملات کو نمٹانے میں "جلدی میں نہیں” ہیں، جن میں خوراک اور ایندھن کی اونچی قیمتوں پر ناراض ووٹرز ان کی ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے کنٹرول سے باہر کرنے کے لیے ووٹ دے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "اس سب کے باوجود جو ہر کوئی انتخابات کے بارے میں کہہ رہا ہے، میں جلدی میں نہیں ہوں۔ ہمیں اسے صحیح طریقے سے کرنا ہوگا۔ انتخابات اپنا راستہ خود بنا لیتے ہیں۔”
عمان اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت: صدر ٹرمپ نے جان بوجھ کر بمباری روکی، کیا دونوں ملک بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کر پائیں گے؟

