سیول:جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے ملک کے بڑے کاروباری گروپ ’ایس کے گروپ‘ کے چیئرمین کو اپنی سابقہ اہلیہ روہ سو ہیونگ کو 944 ارب وون (جو کہ تقریباً 483 ملین برطانوی پاؤنڈ، 644 ملین امریکی ڈالر یا لگ بھگ 179 ارب پاکستانی روپے بنتے ہیں) ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ نے اس تاریخی قانونی مقدمے کو ’صدی کی سب سے مہنگی طلاق‘ قرار دیا ہے۔
عدالتی حکم کے مطابق یہ رقم، جس کی حتمی منظوری ابھی باقی ہے، اس ابتدائی 1.38 کھرب وون سے کم ہے جو سال 2024 میں چیئرمین چے تے وون کو روہ سو ہیونگ کو دینے کا حکم دیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ ان کی ازدواجی زندگی ٹوٹنے کے ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد سامنے آیا ہے۔ روہ سو ہیونگ جنوبی کوریا کے ایک سابق صدر کی بیٹی ہیں، اور ان کی شادی اس وقت ختم ہوئی جب یہ انکشاف ہوا کہ چیئرمین چے تے وون ایک دوسری خاتون سے بچے کے والد بن چکے ہیں۔
ایس کے گروپ سیمی کنڈکٹر بنانے والی دنیا کی معروف کمپنی ’ایس کے ہائنکس‘ کا مالک ہے، جو آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کی دیوہیکل امریکی کمپنی این ویڈیا کو چپس فراہم کرتی ہے اور حال ہی میں اس نے امریکی سٹاک مارکیٹ میں ایک ریکارڈ ساز آغاز کیا ہے۔ جنوبی کوریا بھر میں اس ہائی پروفائل طلاق کے مقدمے نے زبردست عوامی توجہ حاصل کی ہے۔
ایس کے گروپ نے 1953 میں ایک چھوٹی ٹیکسٹائل کمپنی کے طور پر اپنے سفر کا آغاز کیا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ مختلف صنعتوں میں پھیل کر جنوبی کوریا کے سب سے بڑے کاروباری اداروں میں شامل ہو گیا۔ آج یہ سام سنگ گروپ کے بعد جنوبی کوریا کا دوسرا بڑا ’چیبول‘ (خاندانی کاروباری گروپ) ہے۔ جنوبی کوریا کے شہری بڑے پیمانے پر ایس کے ٹیلی کام کی موبائل سروسز استعمال کرتے ہیں اور ملک بھر میں ایس کے کے پیٹرول پمپوں سے ایندھن بھرواتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت (AI) کی صنعت میں تیزی سے ہونے والے اضافے نے ایس کے ہائنکس کو عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا دیا، جس سے اس گروپ کی معاشی اہمیت میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ رواں برس مئی میں اس چپ ساز کمپنی کی مالیت جنوبی کوریا کی سٹاک مارکیٹ میں ایک کھرب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی۔ ایس کے ہائنکس کی بڑھتی ہوئی قدر کے ساتھ ہی ایس کے گروپ اور اس کے چیئرمین چے تے وون کا اثر و رسوخ بھی نمایاں طور پر بلند ہوا ہے۔
گذشتہ ماہ جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے ایک بڑے اے آئی سرمایہ کاری منصوبے کی تقریب کے دوران چیئرمین چے تے وون کی خدمات کی تعریف کرتے ہوئے انہیں اور سام سنگ کے چیئرمین جے وائی لی کو ’کوریا کے عوام کے ہیروز‘ کا خطاب دیا تھا۔ اس کے علاوہ کمپنی نے نیویارک میں اپنے حصص کی فروخت کے ذریعے 26.5 ارب ڈالر بھی جمع کیے، جو کہ امریکہ میں کسی بھی غیر ملکی کمپنی کی جانب سے اب تک کی سب سے بڑی فہرست بندی (لسٹنگ) قرار دی گئی ہے۔

