واشنگٹن:معروف امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ مبینہ طور پر ایران کی حساس جوہری تنصیبات کو اپنے کنٹرول میں لینے اور وہاں موجود افزودہ یورینیم کو اپنے قبضے میں محفوظ بنانے کے لیے ہزاروں زمینی فوجی بھیجنے کے آپشنز پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس نوعیت کی کسی بھی پیچیدہ عسکری کارروائی کے لیے بڑی تعداد میں زمینی فوج کی ضرورت ہوگی۔ اس کا بنیادی مقصد جوہری تنصیبات کا مکمل کنٹرول سنبھالنا، تنصیبات کے اردگرد بچھائے گئے بارودی جال (Booby Traps) کو ناکارہ بنانا، تکنیکی اور تعمیراتی ٹیموں کو بھرپور تحفظ فراہم کرنا اور پورے علاقے کے گرد ایک ناقابلِ تسخیر دفاعی حصار قائم کرنا ہے۔ اس حفاظتی گھیرے کی تکمیل کے بعد ایک خصوصی آپریشنز ٹیم (Special Operations Team) اندر داخل ہو کر افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو اپنی تحویل میں لے گی۔
مبصرین کے مطابق، یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان جوہری پروگرام اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر کشیدگی اور سفارتی رسہ کشی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ جوہری مواد کو محفوظ بنانا یا اسے ایران کی دسترس سے باہر کرنا ایک انتہائی دشوار اور خطرات سے بھرپور عسکری مشن ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکا کا ایران کی جوہری تنصیبات پر قبضے کے لیے ہزاروں دستوں پر مشتمل زمینی فوج بھیجنے کا غور، نیویارک ٹائمز

