ملک کے مختلف علاقوں میں مون سون بارشوں کے بعد دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے جسے مسلسل مانیٹر کی جا رہی ہے۔
این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشنز سینٹر (این سی او سی) نے دریاؤں کی تازہ صورتحال جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران پنجاب، خیبرپختونخوا اور شمالی بلوچستان کے بعض علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔ دوسری جانب پنجاب کے مختلف اضلاع اور اسلام آباد میں بارشوں کے باعث انتظامیہ نے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
این ڈی ایم اے کے مطابق دریائے چناب میں خانکی، قادرآباد اور چنیوٹ پل کے مقامات پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ پلکھو نالہ وزیرآباد میں بھی درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال موجود ہے۔
دریائے سندھ میں کالاباغ، چشمہ اور تونسہ، دریائے چناب میں مرالہ اور تریموں، دریائے راوی میں بلوکی اور سدھنائی جبکہ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق نالہ ایک اور پلکھو نالہ کینٹ پل پر بھی کم درجے کے سیلاب کی صورتحال موجود ہے جبکہ ڈی جی خان اور راجن پور کے پہاڑی ندی نالے معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں۔این ڈی ایم اے کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران دریائے چناب میں مرالہ، خانکی، قادرآباد اور چنیوٹ پل کے مقامات پر پانی کے بہاؤ میں مزید اضافے کا امکان ہے جبکہ تریموں بیراج پر پانی کی سطح درمیانے درجے کے سیلاب تک پہنچنے کی توقع ہے۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران ڈی جی خان کے پہاڑی ندی نالوں، خیبرپختونخوا کے برساتی ندی نالوں اور شمالی بلوچستان میں اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
گوجرانوالہ، منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ، نارووال، فیصل آباد، سرگودھا، جھنگ، ملتان، حافظ آباد اور لاہور کے شہری علاقوں میں بھی ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔
سرگودھا میں دریائے چناب کی صورتحال تاحال کنٹرول میں ہے اور پانی کے بہاؤ میں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق گزشتہ روز تقریباً اڑھائی لاکھ کیوسک پانی گزرنے کے بعد اب بہاؤ کم ہو کر ایک لاکھ 60 ہزار کیوسک رہ گیا ہے۔
سرگودھا شہر اور گردونواح میں بارش کا سلسلہ پانچ گھنٹوں سے جاری ہے، جہاں اب تک 160 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے
قصور کے علاقے کھڈیاں خاص کے نواحی گاؤں ڈھنگ شاہ میں بارش کے باعث خستہ حال مکان گرنے سے دو افراد جان سے گئے اور تین زخمی ہو گئے جبکہ لاہور کے علاقے گڑھی شاہو ریلوے کالونی میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 3 افراد جاں بحق ہو گئے۔
پولیس کے مطابق جاں بحق اور زخمی ہونے والے تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق چھت بوسیدہ ہونے کے باعث منہدم ہوئی۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے معین کی دوسری بیٹی محفوظ رہی۔این ڈی ایم اے نے عوام کو ممکنہ سیلابی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ متعلقہ اداروں کو حساس مقامات کی نگرانی، ہنگامی ٹیموں کی تیاری اور بند ہونے والی شاہراہوں کی فوری بحالی کے انتظامات یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔
این ڈی ایم اے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ سیلابی پانی یا تیز بہاؤ کو پیدل یا گاڑی کے ذریعے عبور نہ کریں، خطرناک مقامات پر قیام سے گریز کریں اور ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں
قیامت خیز بارشیں: قصور ، لاہور میں چھتیں گر نے سے 5 افراد جاں بحق!پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سیلاب کا الرٹ، متعدد دریاؤں میں طغیانی

