اسلام آباد:خطے میں بڑھتے ہوئے چیلنجز کے پیش نظر پاکستان اور ایران نے امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے بات چیت اور سفارتی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے یہ اہم ملاقات کرغزستان میں منعقد ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔ ملاقات میں دونوں وزراء نے پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔
ڈپٹی وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے حالیہ علاقائی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لیے بات چیت، تحمل کا مظاہرہ، تمام فریقین کی جانب سے کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی رابطے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے جون 2026 کے اسلام آباد ایم او یو (Memorandum of Understanding) کے تحت طے پانے والے باہمی فہم کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے علاقائی امن اور سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی حمایت اور تعمیری کوششوں کو بھرپور انداز میں سراہا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے اس موقع پر خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امریکی کارروائی کا نشانہ بننے والی کشتیوں کے عملے سمیت ایرانی ماہی گیروں اور دیگر عملے کے ارکان کی محفوظ واپسی میں پاکستان نے جو سہولت کاری فراہم کی ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے پاکستان کے راستے ان کی محفوظ نقل و حرکت اور ایران واپسی کو یقینی بنانے کے لیے ایرانی، امریکی اور دیگر متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطہ کاری پر بھی اسلام آباد کی خدمات کو سراہا۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے باہمی دلچسپی کے تمام امور پر قریبی رابطہ کاری اور باقاعدہ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا، اور علاقائی امن، استحکام اور مشترکہ خوش حالی کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے اہم ملاقات

