نئی دہلی: کانگریس جنرل سکریٹری اور رکنِ پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے وزیرِ اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ ملک کی ہر کامیابی، حتیٰ کہ مریخ تک پہنچنے کا کریڈٹ بھی لیتے ہیں تو انہیں طلبہ پر لاٹھی چارج، پیپر لیک اور نوجوانوں سے متعلق حکومتی اقدامات کی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہیے۔
پارلیمنٹ کے احاطے میں جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ ملک کی جمہوری تاریخ میں شاید پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ حکومت کے اپنے ارکانِ پارلیمنٹ پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ حکومت پارلیمنٹ کو مؤثر طریقے سے چلانے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔
انہوں نے طلبہ کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نوجوانوں کی آواز سننے کے بجائے انہیں دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، طلبہ دہشت گرد نہیں ہیں بلکہ اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ ایسے میں ان پر آنسو گیس کے گولے داغنا، لاٹھی چارج کرنا اور انٹرنیٹ خدمات معطل کرنا کسی جمہوری نظام کے لیے باعثِ تشویش ہے۔
پرینکا گاندھی نے کہا کہ بعض علاقوں میں انٹرنیٹ بند کیے جانے سے طلبہ کے اہلِ خانہ شدید پریشانی میں مبتلا رہے کیونکہ وہ اپنے بچوں سے رابطہ بھی نہیں کر پا رہے تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر حکومت نوجوانوں کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کر رہی ہے۔

