نئی دہلی:بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں پیپر لیک اسکینڈلز اور بے روزگاری کے خلاف سڑکوں پر نکلنے والے ہزاروں نوجوانوں پر پولیس نے شدید لاٹھی چارج کر دیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کے تیسرے دورِ اقتدار میں سب سے بڑے عوامی چیلنج کے طور پر ابھرنے والی اس ’کاکروچ تحریک‘ کے باعث پارلیمنٹ کا مون سون سیشن بھی شدید ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا ہے اور اجلاس کو معطل کرنا پڑا ہے۔
🚨🚨its Raining in New Delhi, Students are arriving at Jantar Mantar in large numbers for CJP Protest pic.twitter.com/XzugSNxhN9
— Abbas Malik (@AbbasMalik95703) July 20, 2026
چند ماہ قبل میڈیکل کے قومی داخلہ ٹیسٹ کے پرچے لیک ہونے کے بعد شروع ہونے والی اس تحریک نے سوشل میڈیا سے ہوتے ہوئے اب سڑکوں پر ایک بڑے عوامی طوفان کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اتوار کی رات سے ہی نئی دہلی کے مرکزی مقام جنتر منتر پر ہزاروں مظاہرین جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔ یہ احتجاج اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب ہفتے کے روز معروف سماجی کارکن سونم وانگ چک کو، جو بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے، پولیس نے زبردستی اسپتال منتقل کر دیا۔
Supporters of India’s youth-led "cockroach” movement were caned by police on Monday as they sought to march on parliament in the capital New Delhi, despite authorities denying permission for the protest.
A police decision to forcibly move hunger-striking activist Sonam Wangchuk… pic.twitter.com/mzVrC8dN7v
— GDN Online (@GDNonline) July 20, 2026
پیر کی صبح بارش کے باوجود تقریباً 10 ہزار پرامن مظاہرین نے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، انتظامیہ نے پہلے سے ہی بھاری پولیس اور پیراملٹری فورسز کی نفری تعینات کر رکھی تھی اور سڑکوں پر سخت رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔ پولیس نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے لاٹھیوں کا آزادانہ استعمال کیا، جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہو گئے۔ دہلی کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس سچن شرما کا کہنا ہے کہ احتجاجی جگہ پر گنجائش ختم ہو چکی تھی اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے یہ اقدامات کیے گئے۔
مظاہرین وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان اور وزیراعظم نریندر مودی کے استعفے کے نعرے لگاتے ہوئے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مسابقتی امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے اس مکروہ سلسلے کو فوری طور پر بند کیا جائے۔ میرٹھ سے آئے ایک 21 سالہ طالب علم آدی ناتھن نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کرپشن کے خاتمے اور تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے سڑکوں پر آئے ہیں۔
دوسری جانب، اسپتال میں موجود کارکن سونم وانگ چک نے اپنے ‘ایکس’ اکاؤنٹ پر ایک ہاتھ سے تحریر کردہ پیغام میں واضح کیا ہے کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال اسی صورت میں ختم کریں گے جب حکومت تعلیمی نظام کی ناکامیوں اور پیپر لیکس کی ذمہ داری تسلیم کرے، یا پھر پارلیمنٹ کے ارکان اسپتال آ کر انہیں اس مسئلے کے حل کی یقین دہانی کروائیں۔
سی جے پی کے چیف ترجمان سورو داس کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کی کوششیں بہت تاخیر سے کی گئی ہیں، لیکن وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے اس اچانک ابھار نے مودی حکومت کی مشکلات میں زبردست اضافہ کر دیا ہے، جو کہ بھارتی نوجوانوں میں بے روزگاری اور نظام سے مایوسی کے شدید غصے کی عکاسی کرتا ہے۔

