واشنگٹن:امریکی ایوانِ نمائندگان میں اسرائیل کی فوجی امداد بند کرنے کے مطالبے پر ہونے والی ایک علامتی ووٹنگ نے امریکی سیاست میں گہری تقسیم کو بے نقاب کر دیا ہے۔
اگرچہ ایوان نے 314 کے مقابلے میں 104 ووٹوں سے اس ترمیم کو مسترد کر دیا، لیکن 100 سے زائد ڈیموکریٹک ارکان کا اسرائیل کی امداد کے خلاف ووٹ دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ غزہ میں جاری صورتِ حال کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کا ایک بڑا حصہ اب اسرائیل کے حامی بیانیے سے دور ہو چکا ہے۔
یہ ترمیم ریپبلکن رکنِ کانگریس تھامس میسی نے پیش کی تھی، جس کا مقصد اسرائیل کو دی جانے والی تمام فوجی اور غیر فوجی امداد کو روکنا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میسی واحد ریپبلکن تھے جنہوں نے اس ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی صفوں میں اس معاملے پر شدید کشمکش دیکھی گئی۔ سابق اسپیکر نینسی پیلوسی اور پارٹی کی نمبر 2 رہنما کیتھرین کلارک نے امداد روکنے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ ایوان میں ڈیموکریٹک لیڈر حکیم جیفریز نے اس کی مخالفت کی۔
حکیم جیفریز نے ووٹنگ سے قبل کہا کہ نیتن یاہو کی انتہا پسند حکومت نے اسرائیل کو عالمی سطح پر تنہا کر دیا ہے اور خطے میں امن کی کوششوں کو بار بار سبوتاژ کیا ہے۔ تاہم، انہوں نے پارٹی ارکان پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعاون برقرار رکھیں۔ دوسری جانب، سینیٹر برنی سینڈرز نے اس تبدیلی کو عوام کی خواہشات کا عکاس قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام کی بھاری اکثریت اب غزہ میں "نسل کشی” کرنے والے ملک کو فوجی امداد دینے کے سخت خلاف ہے۔
حالیہ پولز کے مطابق، امریکی ووٹرز کی اکثریت اب اسرائیل کو امداد دینے کی مخالفت کر رہی ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق، 68 فیصد ڈیموکریٹس اور اتنی ہی تعداد میں آزاد ووٹرز اسرائیل کو مزید مالی و فوجی مدد دینے کے خلاف ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ووٹنگ اس بات کا اشارہ ہے کہ مستقبل میں اسرائیل کی حمایت امریکی سیاست میں اب "باہمی اتفاق” کا معاملہ نہیں رہے گی۔ تاہم، اس اقدام کے ساتھ ہی ارکانِ کانگریس کو ’ایپاک‘ (AIPAC) جیسے طاقتور لابی گروپس کے سیاسی انتقام کا خطرہ بھی لاحق ہے، جو امداد کی مخالفت کرنے والے امیدواروں کو شکست دینے کے لیے کروڑوں ڈالر خرچ کرنے کے لیے مشہور ہیں۔
کیا اسرائیل کی فوجی امداد کا دور ختم؟ امریکی کانگریس میں تاریخی ووٹنگ نے ہلچل مچا دی

