لندن :بی بی سی کے مطابق برطانوی حکومت نے نوعمر لڑکیوں کا جنسی استحصال کرنے والے گروہ کے سرغنہ کو پاکستان بھجوانے کے لیے قانون کو تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ہوم سیکریٹری قانون میں تبدیلی کریں گی تاکہ روچڈیل کے ’گرومنگ گینگ‘ (نابالغوں کو جنسی استحصال کے لیے پھنسانے والے گروہ) کے سرغنہ شبیر احمد کو ملک بدر کیا جا سکے۔
روچڈیل کے ایم پی پال وا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزرا کو کہہ رہے ہیں کہ ’جلد از جلد قانون بدلیں تاکہ حکام اس بچوں کا ریپ کرنے والے کو برطانیہ سے نکال سکیں۔‘بی بی سی کے مطابق برطانوی حکومت نے نوعمر لڑکیوں کا جنسی استحصال کرنے والے گروہ کے سرغنہ کو پاکستان بھجوانے کے لیے قانون کو تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ہوم سیکریٹری قانون میں تبدیلی کریں گی تاکہ روچڈیل کے ’گرومنگ گینگ‘ (نابالغوں کو جنسی استحصال کے لیے پھنسانے والے گروہ) کے سرغنہ شبیر احمد کو ملک بدر کیا جا سکے۔
روچڈیل کے ایم پی پال وا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزرا کو کہہ رہے ہیں کہ ’جلد از جلد قانون بدلیں تاکہ حکام اس بچوں کا ریپ کرنے والے کو برطانیہ سے نکال سکیں۔‘73 سالہ شبیر احمد، جنھیں اُن کے متاثرین ’ڈیڈی‘ کے نام سے جانتے تھے، کو گذشتہ ہفتے جیل سے رہا کیا گیا۔شبیر احمد کے پاس برطانیہ اور پاکستان کی دوہری شہریت تھی مگر سنہ 2012 میں کم عمر لڑکیوں کے ساتھ متعدد مرتبہ ریپ اور جنسی جرائم میں ملنے والی سزا کے بعد اُن کی برطانوی شہریت ختم کر دی گئی تھی تاہم متاثرین کو بتایا گیا تھا کہ شبیر احمد کو پاکستان ڈی پورٹ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ 55 برس پرانا ایک قانون ان کی ملک بدری کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
شبیر احمد کو برطانیہ سے نکالنے کے لیے قانون میں تبدیلی کے مطالبات سامنے آنے کے بعد برطانوی وزیراعظم سر کیئر سٹارمر نے وزیرِ داخلہ کو اس مقدمے کا جائزہ لینے کی ہدایت کی تھی۔جب اس معاملے میں پیشرفت سے متعلق برطانوی حکومت سے پوچھا گیا تو 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے یہ معاملہ اسلام آباد میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ اٹھایا اور ہم غیر ملکی مجرموں کو ڈی پورٹ کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کے لیے پُرعزم ہیں اور ہمارا مؤقف واضح ہے کہ اس ملک میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا گذشتہ حکومتوں کے تجربے سے ظاہر ہے کہ اس ملک کی رضامندی لازمی ہوتی ہے جہاں متعلقہ شخص کو بھیجا جانا ہو اور یہ ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا ’تاہم ہم اس وقت حکومت کے مختلف شعبوں کے ساتھ مل کر اس معاملے کے تمام ممکنہ آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘
ترجمان نے کہا کہ اگرچہ برطانیہ شبیر احمد کو ملک سے نکالنے کے لیے ’اپنے اختیار میں موجود ہر ممکن اقدام‘ کرے گا لیکن انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ پیچیدہ معاملہ ہے جس کے اثرات اس مخصوص واقعے سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔اس سے قبل وزرا نے کہا تھا کہ برطانوی حکومت بچوں کے ساتھ ریپ کے مرتکب مجرم کو پاکستان واپس بھیجنے کے طریقے تلاش کر رہی ہے۔
73 سالہ شبیر احمد جیل سے رہا ہونے کے بعد اب 24 گھنٹے عملے کی نگرانی والی رہائش گاہ میں رہتے ہیں جہاں وہ جی پی ایس سے منسلک الیکٹرانک نگرانی کا ٹیگ پہنے ہوئے ہیں۔ہوم آفس نے کہا ہے کہ اگر شبیر احمد نے شرائط کی خلاف ورزی کی تو انھیں فوری طور پر دوبارہ جیل بھیج دیا جائے گا۔

