ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ایس ای او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں تھانے، پالگھر، رائے گڑھ، ممبئی مضافات اور پونے سمیت کئی ساحلی اور مغربی اضلاع میں شدید بارش ریکارڈ کی گئی۔
نئی دہلی : مہاراشٹر میں مانسون کی شدید بارشوں نے تباہی مچا دی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران موسلا دھار بارش کے باعث اچانک سیلاب، دریاؤں میں طغیانی اور عمارتوں کے منہدم ہونے جیسے متعدد واقعات پیش آئے ہیں۔ مہاراشٹر اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(ایس ڈی ایم اے) کی بدھ کو جاری کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق یکم جون سے مانسون کے آغاز کے بعد اب تک ریاست میں 62 افراد اور 200 مویشی ہلاک ہو چکے ہیں۔
ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ایس ای او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں تھانے، پالگھر، رائے گڑھ، ممبئی مضافات اور پونے سمیت کئی ساحلی اور مغربی اضلاع میں شدید بارش ریکارڈ کی گئی۔ تھانے میں 196.9 ملی میٹر، پالگھر میں 185.4 ملی میٹر، رائے گڑھ میں 134.1 ملی میٹر، ممبئی مضافات میں 125 ملی میٹر اور پونے میں 69.4 ملی میٹر بارش ہوئی۔ یکم جون سے اب تک تقریباً تمام اضلاع میں معمول سے کہیں زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ پالگھر میں معمول سے 457.3 فیصد اور پونے میں 435.4 فیصد زیادہ بارش ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ہلاکتوں کی بڑی وجوہات عمارتوں اور ڈھانچوں کا گرنا اور آسمانی بجلی گرنا رہی ہیں۔ مختلف اضلاع میں عمارتیں منہدم ہونے سے 25 افراد جان کی بازی ہار گئے جب کہ 41 زخمی ہوئے۔ آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں 23 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے۔بجلی گرنے سے مویشیوں کو بھی بھاری نقصان پہنچا اور مجموعی طور پر ہلاک ہونے والے 200 جانوروں میں سے 181 کی موت آسمانی بجلی کی وجہ سے ہوئی۔
ریاست کے مختلف پہاڑی علاقوں، جن میں سندھودرگ، رتناگیری، رائے گڑھ، ستارا اور پونے شامل ہیں، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات میں 6 افراد ہلاک اور 4 زخمی ہوئے، جبکہ درخت گرنے سے 6 افراد اور سیلابی پانی میں بہہ جانے سے 2 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔شدید بارش کے باعث ریاست کی کئی بڑی ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں، جس کے پیش نظر نشیبی علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ادھر انڈین نیشنل سینٹر فار اوشن انفارمیشن سروسز(آئی این سی اوآئی ایس) نے مہاراشٹر کے پورے ساحلی علاقے کے لیے نصف شب تک ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے بلند سمندری لہروں اور تیز مدوجزر کی وارننگ دی ہے۔ حکام نے عوام کو ساحلی تفریحی سرگرمیوں سے گریز کرنے اور ماہی گیروں سمیت تمام چھوٹی اور تجارتی کشتیوں کو سمندر میں نہ جانے کی ہدایت جاری کی ہے۔

