بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے کچھ مانگی فیز تھری میں پولیس پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز کا بڑا کلیئرنس آپریشن کامیابی سے مکمل ہو گیا۔ اس دوران 9 پولیس اہلکار شہید ہوئے جبکہ 15 دہشتگرد مارے گئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ شہداء میں ایس ایچ او مانگی محمد حسین اور ایس ایچ او کواس صحبت خان شامل ہیں، گزشتہ رات سے دہشت گردوں اور پولیس کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا۔ایس پی زیارت نے بتایا کہ شہید اہلکاروں کی لاشیں ڈی ایچ کیو ہسپتال زیارت منتقل کر دی گئیں، واقعہ کے بعد علاقے میں سکیورٹی فورسز اور پولیس کی نفری بڑھا دی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق حملہ آوروں کی تلاش اور علاقے کی کلیئرنس کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے، شہید اہلکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
بلوچستان سے اِطلاعات کے مطابق زیارت کے علاقے کَچھ میں دہشت گردوں کے خلاف لڑتے ہوئے زیارت پولیس کے تقریباً 30 سے 35 اہلکاروں نے دن بھر بہادری سے مقابلہ کیا مگر گولیاں ختم ہونے اور بروقت مدد نہ پہنچنے کے باعث رات تقریباً 11 بجے دہشت گرد ڈی ایس پی زیارت، دو ایس ایچ اوز اور متعدد پولیس اہلکار بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرگئے۔
بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے کچھ مانگی فیز تھری میں پولیس پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز کا بڑا کلیئرنس آپریشن کامیابی سے مکمل ہو گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون شاہد رند نے باضابطہ طور پر تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ضلع زیارت میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف کلیئرنس آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے، اور یہ کارروائی ایف سی، بلوچستان پولیس، سی ٹی ڈی، ایس او ڈبلیو اور اے ٹی ایف نے مل کر مشترکہ طور پر پوری کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد علاقے کو دشمنوں سے پاک کرنا اور لاپتہ ہونے والے اپنے جوانوں کو تلاش کرنا تھا۔
معاونِ وزیر اعلیٰ شاہد رند نے حملے میں ہونے والے نقصان کے بارے میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردوں کے حملے میں بلوچستان پولیس کے نو افسران و اہلکار شہید ہوئے ہیں۔
انہوں نے شہداء کی تفصیل دیتے ہوئے کہا کہ ان بہادر جوانوں میں ایس ایچ او تھانہ منگی، ایس ایچ او تھانہ کاوس، اور اے ٹی ایف کے انچارج ہیڈ کانسٹیبل سیف اللہ سمیت دیگر اہلکار شامل ہیں جنہوں نے ملک کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں۔
شاہد رند نے مزید بتایا کہ ان تمام شہداء کی میتیں قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایچ کیو اسپتال زیارت منتقل کی جا رہی ہیں۔
شاہد رند نے تصدیق کی ہے کہ حملے کے بعد لاپتہ ہونے والے ڈی ایس پی غلام سرور سمیت آٹھ پولیس اہلکار دشوار گزار اور کٹھن پہاڑی راستوں سے گزر کر بحفاظت تھانہ کاچ پہنچ گئے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک اور اہلکار کانسٹیبل رضوان کو بھی بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے۔
بلوچستان کے ضلع زیارت میں دہشتگردوں کا پولیس پر حملہ، 9 اہلکار شہید،15دہشت گرد مارے گئے

