تحریر : اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
لاہور میں دو غیر ملکی خواتین سے مبینہ اغوا، تاوان طلبی، جنسی زیادتی اور تشدد کا مقدمہ صرف ایک سنگین فوجداری کیس نہیں رہا بلکہ اس نے پنجاب پولیس کے تفتیشی نظام، ادارہ جاتی خودمختاری اور مالی جرائم کی تحقیقات کے حوالے سے بھی کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق ہالینڈ اور وینزویلا سے تعلق رکھنے والی دو خواتین کو سرمایہ کاری اور سیر و تفریح کے بہانے پاکستان بلایا گیا۔ بعد ازاں انہیں مبینہ طور پر اغوا کر کے ایک گھر میں رکھا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا، تاوان طلب کیا گیا اور جنسی زیادتی کی گئی۔ متاثرہ خواتین مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے تحت اپنے بیانات بھی ریکارڈ کرا چکی ہیں، جبکہ پولیس کے مطابق میڈیکل رپورٹ میں ایک خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی اور دوسری کے حوالے سے مبینہ زیادتی کی کوشش کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ متعدد ملزمان گرفتار ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔
اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واضح کیا کہ اس مقدمے کی تفتیش سی سی ڈی نہیں بلکہ لاہور پولیس ہی کرے گی۔ قانونی طور پر یہ اختیار موجود ہے، کہ آخر وہ کون سا معیار ہے جس کی بنیاد پر بعض مقدمات سی سی ڈی کے سپرد کیے جاتے ہیں جبکہ بعض انتہائی حساس کیسز مقامی پولیس کے پاس ہی رہتے ہیں۔ پنجاب پولیس کے مختلف حلقوں میں بھی یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ سی سی ڈی متعدد مقدمات اپنی تحویل میں لے لیتی ہے، خصوصاً وہ کیسز جنہیں حساس یا ہائی پروفائل قرار دیا جاتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر موجودہ مقدمہ، جس میں غیر ملکی شہری، مبینہ تاوان، کرپٹو کرنسی، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی مالی لین دین جیسے پہلو شامل ہیں، کیا سی سی ڈی کے دائرہ کار میں نہیں آتا؟ اس سوال کا واضح جواب عوام کا حق ہے۔ مزید اہم پہلو مالی تحقیقات کا ہے۔ پولیس خود یہ کہہ چکی ہے کہ مقدمے میں مبینہ تاوان، کرپٹو کرنسی اور سرمایہ کاری سے متعلق معاملات بھی زیرِ تفتیش ہیں۔ اگر دورانِ تفتیش کروڑوں ڈالر کے مبینہ لین دین یا مالی وسائل کا معاملہ سامنے آتا ہے تو کیا صرف پولیس کی تحقیقات کافی ہوں گی؟ یا پھر ایسے معاملات کی جانچ ان اداروں کو بھی کرنی چاہیے جو مالی جرائم، منی لانڈرنگ، ٹیکس ریکارڈ اور مشکوک مالی لین دین کی تحقیقات کے ذمہ دار ہیں، جیسے ایف بی آر، ایف آئی اے یا دیگر متعلقہ ادارے؟ میڈیا رپورٹس میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے نواسے رضا ڈار کا نام بھی بطور ملزم سامنے آیا ہے۔ تاہم یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ مقدمہ ابھی زیرِ سماعت اور زیرِ تفتیش ہے، اس لیے کسی بھی شخص کی قانونی ذمہ داری یا جرم کا تعین صرف عدالت ہی کر سکتی ہے۔ لیکن اگر تفتیش میں غیر معمولی مالی وسائل یا کروڑوں ڈالر کے مبینہ لین دین کے شواہد سامنے آتے ہیں تو قانون کی نظر میں ہر متعلقہ شخص سے یکساں بنیادوں پر پوچھ گچھ ہونی چاہیے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی بااثر خاندان سے کیوں نہ ہو۔
اصل امتحان یہی ہے کہ قانون کی حکمرانی صرف کمزور اور بے اثر افراد تک محدود نہ رہے بلکہ ہر بااثر شخصیت اور اس کے قریبی افراد پر بھی یکساں طور پر نافذ ہوتی نظر آئے۔ اسی سے عوام کا اعتماد بحال ہوگا اور اداروں کی ساکھ مضبوط ہوگی۔
یہ مقدمہ صرف دو غیر ملکی خواتین کے انصاف کا معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کے تفتیشی نظام، ادارہ جاتی شفافیت اور احتساب کے اصولوں کی آزمائش بھی ہے۔ عوام اب یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ تحقیقات مکمل غیر جانبداری سے آگے بڑھتی ہیں یا نہیں، سی سی ڈی کو اس مقدمے سے دور رکھنے کی وجوہات کیا ہیں، اور اگر مالی جرائم کے شواہد موجود ہیں تو کیا متعلقہ تحقیقاتی ادارے بھی قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
اس کیس کا حتمی فیصلہ عدالت کرے گی، لیکن ریاستی اداروں پر یہ ذمہ داری ضرور عائد ہوتی ہے کہ وہ ہر پہلو، خصوصاً مالی معاملات، سیاسی اثر و رسوخ اور بین الاقوامی پہلوؤں کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات یقینی بنائیں تاکہ انصاف نہ صرف ہو بلکہ ہوتا ہوا بھی نظر آئے۔
سی سی ڈی کو کیس سے دور کیوں رکھا گیا؟ لاہور کیس کے رازوں سے پردہ اٹھانے کا وقت آ گیا!


