لاہور: ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نےپریس کانفرنس کرتے ہوئے غیر ملکی لڑکیوں کے اغوا، بازیابی اور قانونی کارروائی کے تمام حقائق سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کیس کی حساسیت کے پیشِ نظر پولیس نے ہر قدم میرٹ پر اٹھایا۔یہ کیس سی سی ڈی کو نہیں دیا جائے گا ، لاہور پولیس اس کیس کو خود دیکھے گی
ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق 26 جون کو دو لڑکیاں اسلام آباد پہنچیں اور 29 جون کو لاہور آئیں۔ یکم جولائی کو ان کے اغوا کی کال موصول ہوتے ہی پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے فوری کارروائی شروع کی۔ ملزمان کی گاڑی کو ٹریس کیا گیا اور اس کی لوکیشن کی مدد سے سرگودھا کے ایک گھر پر چھاپہ مارا گیا۔ فیصل کامران نے بتایا کہ دورانِ چھاپہ ایک فیملی نے انہیں ڈرانے کی کوشش کی اور خود کو نائب وزیراعظم کا رشتہ دار ظاہر کیا، تاہم پولیس نے دباؤ میں آئے بغیر کارروائی جاری رکھی اور ملزم رضا ڈار کو ٹریس کر کے گرفتار کر لیا۔

ڈی آئی جی آپریشنز نے اعتراف کیا کہ ایک ایسے کیس میں، جس میں زیادتی کا پہلو شامل ہو، دفعہ 164 کا بیان قانونی طور پر ناگزیر ہوتا ہے۔ اس بیان کے حصول کے لیے ڈیوٹی مجسٹریٹ سے رابطے کی کوشش کے دوران پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے پر انہوں نے جوڈیشری سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد صرف ملک اور عدالتی نظام کی ساکھ کو محفوظ بنانا تھا۔
انہوں نے وضاحت کی: "اگر لڑکیاں بغیر بیان دیے چلی جاتیں تو انٹرنیشنل فورمز پر ہمارے قانونی نظام پر سوال اٹھتے۔”
لڑکیوں کے میڈیکل اور نیدرلینڈز کے قونصلر کی موجودگی میں 164 کے بیان کے بعد، دونوں بازیاب ہونے والی غیر ملکی لڑکیاں پولیس کی تحقیقات سے مکمل طور پر مطمئن ہو گئیں۔ بیان کے دوران زیادتی کرنے والے اور دھمکیاں دینے والے ملزمان کی نشاندہی ہو چکی ہے۔
ڈی آئی جی فیصل کامران نے عزم کا اظہار کیا کہ اعلیٰ افسران کی ہدایت کے مطابق کیس کی تفتیش میرٹ پر جاری ہے اور اس گھناؤنے فعل میں ملوث کسی بھی شخص کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا تاکہ پاکستان کے عالمی تشخص کو بہتر بنایا جا سکے

