نوشہرو فیروز ( رپورٹ – ڈسٹرکٹ رپورٹر رجب علی سمون )
نوشہرو فیروز: سکھر سے تعلق رکھنے والے ہندو نوجوان اور لڑکی نے نوشہرو فیروز میں جسٹس آف پیس کی عدالت میں اپنی مرضی سے ہندو مذہب کے مطابق شادی کر لی۔تفصیلات کے مطابق سکھر بیراج کالونی کی رہائشی کشش اور سکھر ایکسائز آفس کے علاقے کے رہائشی روہیت نے شادی کے بعد پریس کلب نوشہرو فیروز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی باہمی رضامندی سے پسند کی شادی کی ہے۔جوڑے کا کہنا تھا کہ شادی کے بعد لڑکی کے رشتہ دار، جن میں ساجن، ارہن، کالو، جنگو، کشور، جوجی، سنیل، ہری اور آدیش شامل ہیں، ان کے مخالف بن گئے ہیں اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف سکھر میں جھوٹا مقدمہ درج کرایا گیا ہے، جس کے باعث وہ دربدری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ہندو جوڑے نے اعلیٰ حکام، ایس ایس پی سکھر اور ایس ایس پی نوشہرو فیروز سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں قانونی تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ بلا خوف و خطر پُرامن زندگی گزار سکیں۔

