بلوچستان رحمت اللہ بلوچ بیوروچیف بے نقاب نیوز نیٹورک)
سیلاب متاثرین کی بحالی کا عمل ایک بار پھر کئی سنگین سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ کلی غریب آباد کے وہ خاندان، جن کے گھر تباہ کن سیلاب میں مکمل یا جزوی طور پر منہدم ہو گئے تھے، آج بھی اپنے بنیادی حق کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ چار سال تک متاثرین کو انتظار میں رکھنے کے بعد جب بحالی کے لیے فنڈز جاری ہوئے تو کلی غریب آباد کے تقریباً 20 سے 25 متاثرہ گھروں میں سے صرف تین گھروں کی تعمیر کی گئی، جبکہ باقی تمام متاثرہ خاندانوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔یہ سوال ہر باشعور شہری کے ذہن میں گردش کر رہا ہے کہ اگر ایک ہی علاقے کے تمام گھر ایک ہی قدرتی آفت سے متاثر ہوئے تھے تو صرف تین خاندان ہی امداد کے مستحق کیسے قرار پائے؟ باقی متاثرین کا قصور کیا تھا؟ کیا ان کے نقصانات کم تھے، یا ان کی محرومیاں کسی کی نظر میں اہمیت نہیں رکھتیں؟ ایسے فیصلے عوام کے دلوں میں شکوک و شبہات کو جنم دیتے ہیں اور بحالی کے عمل کی شفافیت پر سوال اٹھاتے ہیںمتاثرین جب اپنے جائز حق کے حصول کے لیے متعلقہ این جی اوز کے دفاتر پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ صرف تین گھروں کی فہرست اسلام آباد میں تیار کی گئی تھی، اس لیے باقی گھروں کی تعمیر ممکن نہیں۔ یہ جواب نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے بلکہ اس سے یہ تاثر بھی پیدا ہوتا ہے کہ زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے فیصلے دور بیٹھ کر کیے گئے، جن کا حقیقی متاثرین کی مشکلات سے کوئی تعلق نہیں۔چار سال کا طویل عرصہ کسی بھی آفت زدہ خاندان کے لیے معمولی نہیں ہوتا۔ اس دوران کئی خاندان قرضوں، بے سروسامانی اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور رہے۔ اگر اس کے بعد بھی انہیں مکمل بحالی نہ ملے تو یہ نہ صرف انتظامی کمزوری بلکہ متاثرین کے ساتھ ناانصافی بھی ہے۔ بحالی کے منصوبوں کا مقصد چند افراد کو فائدہ پہنچانا نہیں بلکہ ہر اس خاندان کو اس کا حق دینا ہے جو قدرتی آفت کا شکار ہوا ہو۔ہم ڈپٹی کمشنر قلات منیر احمد درانی سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں، کلی غریب آباد کے تمام متاثرہ گھروں کا ازسرنو سروے کروائیں، حقائق کی بنیاد پر نظر انداز کیے گئے خاندانوں کو بحالی کے منصوبے میں شامل کریں اور متعلقہ اداروں سے جواب طلب کریں کہ آخر کن بنیادوں پر صرف تین گھروں کو منتخب کیا گیا جبکہ دیگر متاثرین کو ان کے حق سے محروم رکھا گیا۔یہ بات بھی حقیقت ہے کہ ڈپٹی کمشنر منیر احمد درانی نے 2023 میں کلی غریب آباد کا دورہ کیا تھا، متاثرین سے ملاقات کی تھی اور کئی عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی کیے تھے۔ اسی لیے متاثرہ خاندان آج بھی ان سے امید رکھتے ہیں کہ وہ اس اہم مسئلے کو بھی سنجیدگی سے لیں گے اور انصاف پر مبنی فیصلہ کرتے ہوئے تمام متاثرہ خاندانوں کے گھروں کی تعمیر کو یقینی بنائیں گے۔قلات کے سیلاب زدگان کسی احسان کے طلبگار نہیں، بلکہ اپنے جائز اور قانونی حق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ بحالی کے تمام منصوبوں میں شفافیت، مساوات اور انصاف کو یقینی بنایا جائے تاکہ کوئی بھی متاثرہ خاندان خود کو تنہا، محروم اور نظر انداز محسوس نہ کرے۔ اگر اس معاملے پر فوری اور منصفانہ کارروائی نہ کی گئی تو متاثرین کا این جی اوز اور بحالی کے نظام پر اعتماد مزید مجروح ہوگا، جس کی ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔

