تحریرجلیل نقوی
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

ضلع چکوال کے نواحی گاؤں روپوال میں گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری ایک پراسرار گمشدگی نے منگل کی صبح ایسا رخ اختیار کیا جس نے نہ صرف اہلِ علاقہ کو خوف اور تشویش میں مبتلا کر دیا بلکہ پورے علاقے میں ایک نئے معمہ کو جنم دے دیا۔ کھیتوں سے ایک انسانی کھوپڑی، بالوں کی چوٹی، ایک چپل، پراندہ اور جزوی طور پر جلے ہوئے کپڑے کے ٹکڑے برآمد ہونے کے بعد ہر شخص کی زبان پر صرف ایک ہی سوال تھاکہ آخر یہ باقیات کس کی ہیں؟ کیا یہ کئی ہفتوں سے لاپتہ 65 سالہ خالدہ پروین دختر رستم خان سے تعلق رکھتی ہیں یا پھر یہ کسی اور نامعلوم واقعے کا سراغ ہیں؟ اس سوال کا جواب تاحال کسی کے پاس نہیں اور اب نظریں صرف فرانزک رپورٹ اور پولیس تحقیقات پر مرکوز ہیں۔
یہ کہانی ایک عام گمشدگی سے شروع ہوئی، لیکن وقت کے ساتھ اس نے ایک پراسرار رخ اختیار کر لیا۔ اہل خانہ کے مطابق خالدہ پروین تقریباً بیس سے پچیس روز قبل اپنے گھر سے نکلیں، مگر اس کے بعد واپس نہ آئیں۔ چونکہ وہ اکثرروپوال گاؤں میں ہی اپنی دوسری بہن کے گھر جایا کرتی تھیں، اس لیے ابتدا میں گھر والوں کو کسی غیر معمولی صورتحال کا احساس نہیں ہوا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ حسبِ معمول اپنی بہن کے ہاں چند روز گزار کر واپس آ جائیں گی۔ یہی اطمینان کئی دن تک برقرار رہا، لیکن جب دونوں گھروں کے درمیان رابطہ ہوا تو انکشاف ہوا کہ خالدہ پروین اپنی بہن کے گھر پہنچی ہی نہیں تھیں۔ یہی لمحہ اس معمہ کی ابتدا ثابت ہوا۔اس اطلاع کے بعد اہل خانہ کی پریشانی میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا۔ انہوں نے عزیز و اقارب، رشتہ داروں اور جاننے والوں سے رابطے کیے، مختلف مقامات پر تلاش کی، مگر ہر کوشش بے نتیجہ ثابت ہوئی۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ امید اور بے چینی ایک دوسرے کے ساتھ چلتی رہیں۔ کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ ایک ایسی خاتون، جو معمول کی زندگی گزارتی تھیں، اچانک اس طرح لاپتہ کیسے ہو سکتی ہیں۔جب ذاتی کوششیں ناکام ہو گئیں تو خاندان نے عوام سے مدد لینے کا فیصلہ کیا۔ 23 جون کو سوشل میڈیا پر خالدہ پروین کی تصاویر اور معلومات شیئر کی گئیں۔ لوگوں سے اپیل کی گئی کہ اگر کسی نے انہیں کہیں دیکھا ہو یا ان کے بارے میں کوئی اطلاع ہو تو فوری آگاہ کیا جائے۔ یہ اپیل تیزی سے مختلف پلیٹ فارمز پر پھیل گئی، مگر ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود کوئی قابلِ اعتماد اطلاع سامنے نہ آ سکی۔
اسی دوران سوشل میڈیا پرخالدہ پروین سے متعلق یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ان کی ذہنی کیفیت معمول کے مطابق نہیں تھی۔ تاہم اہل خانہ اور گاؤں کے متعدد افراد نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مکمل طور پر معمول کی زندگی گزار رہی تھیں، روزمرہ کے کام انجام دیتی تھیں، رشتہ داروں کے گھروں میں آتی جاتی تھیں اور راستے میں ملنے والوں سے خوش اخلاقی سے گفتگو کرتی تھیں۔ ان کے مطابق ذہنی توازن سے متعلق افواہیں حقیقت کے برعکس ہیں اور تحقیقات پر اثرانداز ہونے کا سبب بن سکتی ہیں۔
پھر منگل 30 جون کی صبح وہ لمحہ آیا جس نے پورے علاقے کی فضا بدل دی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق روپوال بائی پاس روڈ کے قریب واقع زرعی زمینوں میں انسانی کھوپڑی ملنے کی خبر پھیلتے ہی دیکھتے ہی دیکھتے بڑی تعداد میں لوگ موقع پر جمع ہو گئے۔ ہر شخص حیرت زدہ تھا، مگر کسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔عینی شاہدین کے مطابق جب مزید تلاش کی گئی تو کھوپڑی کے قریب ایک چپل، بالوں کی چوٹی، پراندہ اور کپڑےکے کچھ ٹکڑے بھی ملے، جن میں سے بعض حصے جلے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔ ان اشیا کی موجودگی نے موقع پر موجود افراد کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا۔ لوگ ایک دوسرے سے سوال کرتے رہے کہ آخر یہ سب یہاں کیسے پہنچا اور اس کے پیچھے کیا حقیقت چھپی ہوئی ہے۔
خالدہ پروین کے اہل خانہ کو اطلاع دی گئی تو وہ بھی موقع پر پہنچ گئے۔ انہوں نے ابتدائی طور پر بعض اشیا کو دیکھ کر خدشہ ظاہر کیا کہ یہ ممکنہ طور پر خالدہ پروین سے تعلق رکھ سکتی ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ حتمی شناخت کے لیے فرانزک رپورٹ کا انتظار کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سائنسی تصدیق کے بغیر کسی نتیجے پر پہنچنا درست نہیں ہوگا۔
اطلاع ملتے ہی تھانہ نیلہ پولیس حرکت میں آ گئی۔ایس ایچ او تھانہ نیلہ حافظ شفقت امین پولیس نفری کے ساتھ موقع پر پہنچے، علاقے کو محفوظ بنایا گیا اور شواہد کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ بعد ازاں فرانزک اور تحقیقاتی ٹیموں نے موقع کا تفصیلی معائنہ کیا، مختلف نمونے اکٹھے کیے اور انہیں مزید تجزیے کے لیے راولپنڈی بھجوا دیا۔پولیس حکام نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر کسی بھی قسم کا حتمی دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ابھی یہ ثابت ہونا باقی ہے کہ برآمد ہونے والی باقیات کس کی ہیں۔ اسی طرح یہ کہنا بھی ممکن نہیں کہ اگر ان کا تعلق لاپتہ خاتون سے ثابت ہوتا ہے تو یہ کسی حادثے، طبعی وجوہات یا کسی مجرمانہ کارروائی کا نتیجہ ہے۔ ایس ایچ او تھانہ نیلہ حافظ شفقت امین کے مطابق ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں اور تمام امکانات کو کھلے ذہن سے دیکھا جا رہا ہے۔تحقیقات کے دوران ایک اور سوال نے مقامی آبادی میں بے چینی بڑھا دی۔ اگر برآمد ہونے والی کھوپڑی اور دیگر اشیا واقعی خالدہ پروین سے تعلق رکھتی ہیں تو پھر جسم کے دیگر اعضا کہاں ہیں؟ صرف ایک چپل کیوں ملی جبکہ دوسری کا کوئی نشان نہیں ملا؟ کپڑوں کے بعض حصے جلے ہوئے کیوں محسوس ہوئے؟ کیا یہ تمام صورتحال کسی قدرتی عمل کا نتیجہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ موجود ہے؟ ان سوالات کے جواب ابھی تحقیقات کے مراحل میں ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق واقعے کے بعد اردگرد کے کھیتوں اور قریبی علاقے میں مزید تلاش بھی کی گئی، تاہم کوئی دوسری انسانی باقیات یا اضافی شواہد ابھی تک برآمد نہیں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ معاملہ پہلے سے زیادہ پراسرار دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم پولیس مسلسل اپیل کر رہی ہے کہ عوام غیر مصدقہ اطلاعات یا افواہوں پر یقین نہ کریں اور صرف سرکاری تحقیقات کے نتائج کا انتظار کریں۔ادھر اہل خانہ نے بھی پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ اگر اس معاملے کے پیچھے کوئی مجرمانہ عنصر موجود ہے تو وہ قانون کی گرفت میں آ سکے اور اگر حقیقت کچھ اور ہے تو وہ بھی بلا تاخیر سامنے آ جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی خواہش صرف یہ ہے کہ حقیقت واضح ہو اور غیر یقینی کیفیت کا خاتمہ ہو۔
اس واقعے نے پورے روپوال اور گردونواح میں خوف، افسوس اور تجسس کی فضا پیدا کر دی ہے۔ ہر شخص اپنے اندازے لگا رہا ہے، مگر حقیقت اب بھی پردۂ راز میں ہے۔ پولیس تحقیقات جاری ہیں، فرانزک ماہرین اپنی رپورٹ مرتب کر رہے ہیں، جبکہ خاندان کی نظریں ہر آنے والی اطلاع پر جمی ہوئی ہیں۔اب سب کی نگاہیں اس فرانزک رپورٹ پر مرکوز ہیں جو یہ واضح کرے گی کہ کھیتوں سے برآمد ہونے والی انسانی باقیات کس کی ہیں۔ اگر ان کا تعلق واقعی لاپتہ خاتون سے ثابت ہوتا ہے تو تحقیقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہوں گی اور اگر نہیں، تو پھر یہ معمہ ایک بالکل نئی سمت اختیار کر سکتا ہے۔ فی الحال ایک سوال بدستور گونج رہا ہےکہ روپوال کے کھیتوں میں ملنے والی یہ انسانی باقیات آخر کس کی ہیں؟ اس سوال کا جواب آنے والے دنوں میں سامنے آنے والی سائنسی رپورٹ اور پولیس تحقیقات ہی دے سکیں گی۔

