جھڈو (رپورٹ / قیصر راجہ راجپوت)
سجاگ بار تحریک ضلع میرپورخاص کے زیرِ اہتمام پانی کی قلت، 28ویں آئینی ترمیم، خواتین اور بچوں کے اغوا، قتل، زیادتی، تعلیمی تباہ حالی اور لاپتا بچوں کی بازیابی کے مطالبات کے حق میں جھڈو میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ کیا گیا۔ ریلی عوامی نگر پاڑے سے شروع ہو کر پرانی نیشنل بینک چوک پر اختتام پذیر ہوئی، جہاں مقررین نے حکومت سے فوری عملی اقدامات کا مطالبہ کیا۔احتجاج کی قیادت سجاڳ ٻار تحریک کے مرکزی صدر سرمد خاصخیلی، مرکزی جنرل سیکریٹری شعیب بھٹو، عوامی تحریک ضلع میرپورخاص کے جنرل سیکریٹری ایاز کھوسو، سوشل میڈیا سیکریٹری شاکر بلوچ، ضلعی صدر دانا کلوئی، ضلعی جنرل سیکریٹری قدیر ٹالپر اور دیگر رہنماؤں نے کی، جبکہ سینکڑوں بچوں، خواتین، بزرگوں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
شرکاء نے "سندھ کے پانی پر ڈاکہ نامنظور”، "28ویں آئینی ترمیم نامنظور”، "بچوں سے زیادتی کرنے والوں کو سخت سزا دو”، اور "پریا کماری، اجالا پروین سولنگی سمیت تمام لاپتا بچوں کو بازیاب کرو” کے پُرزور نعرے لگائے۔
مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ سندھ کو اس کے آئینی حق کے مطابق پانی فراہم نہ کرنے سے زراعت شدید متاثر ہو رہی ہے، فصلیں تباہ ہو رہی ہیں اور کسان معاشی بدحالی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے اغوا، قتل اور جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں اور حکومت شہریوں خصوصاً بچوں کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔۔مظاہرے کے اختتام پر شرکاء نے خبردار کیا کہ اگر عوامی مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو سندھ بھر میں احتجاجی تحریک کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

