کراچی میں ہفتے کو رینجرز کیمپ پر ہونے والے حملے میں گرفتار ہونے والے افغان دہشتگرد نے تفتیش کے دوران انتہائی ہوشربا اور سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔ اس تفتیش کے بعد دہشتگرد تنظیم جماعت الاحرار اور افغانستان میں موجود نیٹ ورک کے آپس میں تعلق کے واضح شواہد سامنے آ گئے ہیں۔
حملے کے دوران زخمی حالت میں گرفتار ہونے والے دہشتگرد عثمان نے اپنے بیان میں اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ افغانستان کے علاقے جلال آباد سے پاکستان آیا ہے۔
عثمان نے بتایا کہ حملے میں ملوث دیگر تین دہشتگرد عبدالہادی، جانان اور عمر فاروق اس کے قریبی ساتھی تھے، جن میں سے اس کے ساتھ آنے والے دہشتگرد جانان نے رینجرز کیمپ پر بم پھینکا تھا اور عبدالہادی موقع پر ہی مارا جا چکا تھا۔
عثمان نے بتایا کہ وہ سب لوگ اس کارروائی سے ٹھیک سات دن پہلے پاکستان داخل ہوئے تھے۔
کراچی رینجرز کیمپ پر حملے میں زندہ گرفتار ہونے والے دہشت گرد کے ہوش ربا انکشافات pic.twitter.com/11Y3RTgdPc
— افغان اردو (@AfghanUrdu) June 29, 2026
عثمان کے مطابق مارا جانے والا عبدالہادی اصل میں باجوڑ کا رہائشی تھا، اور پاکستان پہنچنے کے بعد ان سب کو ایک زیرِ تعمیر عمارت میں چھپا کر رکھا گیا تھا، جبکہ حملے میں استعمال ہونے والا سارا اسلحہ اور بارود عبدالہادی خود وزیرستان سے لے کر آیا تھا۔
یاد رہے کہ ہفتے کی رات کراچی کے علاقے صفورہ میں یونیورسٹی روڈ پر موسمیات چورنگی کے قریب واقع پاکستان رینجرز سندھ کے کیمپ پر جماعت الاحرار کے دہشتگردوں نے حملہ کیا تھا۔ دہشتگردوں نے دھماکہ کر کے کیمپ کے اندر گھسنے کی کوشش کی، لیکن وہاں تعینات رینجرز کے جوانوں نے بنا وقت ضائع کیے انتہائی پھرتی سے جوابی کارروائی کر کے ان کا یہ ارادہ مٹی میں ملا دیا۔
اس شدید مقابلے میں وطنِ عزیز کے تین رینجرز اہلکار شہید اور چار جوان زخمی ہوئے، جبکہ تین حملہ آور مارے گئے اور عثمان کو زخمی حالت میں زندہ پکڑ لیا گیا تھا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پاکستان اپنے شہداء کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لے گا اور عزمِ استحکام آپریشن کے تحت دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف یہ جنگ پوری طاقت سے جاری رہے گی۔

