بلوچستان، کھنڈ میں دہشت گردی کا واقعہ متاثرہ خاندان کراچی کا رہائشی نکلا، علی جمیل فیملی کے ساتھ سفر کے دوران گوگل میپ کی غلط ڈائریکشن سے کھنڈ پہنچا، فائرنگ سے علی جمیل جاں بحق جبکہ خاتون زخمی ہوئی تھی
کراچی سے اپنے خاندان کے ہمراہ کوئٹہ کی سیر کر کے واپس جانے والا نوجوان مستونگ کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ کی بھینٹ چڑھ گیا۔
کے مطابق فائرنگ سے نوجوان کی بیوی شدید زخمی ہوگئی جبکہ دونوں کمسن بیٹیاں محفوظ رہیں۔ماجر علی مرتضیٰ کی نماز جنازہ طارق روڈ کی رحمانیہ مسجد میں ادا کر دی گئی، جس میں اہلخانہ، عزیز و اقارب، تاجر رہنماؤں اور تاجروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔نماز جنازہ میں تاجر رہنما رضوان عرفان، کراچی موبائل ڈیلر ایسوسی ایشن کے صدر منہاج گلفام سمیت دیگر تاجر برادری کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ بعد ازاں مرحوم علی مرتضیٰ کی تدفین سوسائٹی قبرستان میں کی گئی۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تاجر رہنما رضوان عرفان نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک اور کھلی دہشت گردی کا واقعہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ علی مرتضیٰ پہلی مرتبہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ کوئٹہ گئے تھے، جہاں نامعلوم دہشت گردوں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے دوران علی مرتضیٰ کے سینے پر گولی لگی جو جان لیوا ثابت ہوئی، جبکہ ان کی اہلیہ بھی متعدد گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوئیں اور اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
انہوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فیلڈ مارشل، بلوچستان حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے اور ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔
پولیس کے مطابق کراچی میں موبائل فون کا کاروبار کرنے والے علی جمیل اپنی بیوی اور دو بچیوں کے ہمراہ کوئٹہ کی سیر کیلئے آئے تھے۔
وہ کوئٹہ کے مختلف مقامات پر سیر و تفریح کے بعد جمعہ کی شب کراچی واپس جارہے تھے تو رات کو راستہ بھول جانے کے باعث قومی شاہراہ سے ہٹ کر دشت کے علاقے کھنڈ پہنچ گئے جہاں دہشت گردوں نے گاڑی روکنے کا اشارہ کیا تاہم نہ رکنے پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں علی جمیل موقع پر ہی ہلاک جبکہ ان کی بیوی عائشہ شدید زخمی ہوگئی۔
واقعے میں گاڑی میں سوار ان کی دونوں بچیاں محفوظ رہیں، زخمی خاتون کو کوئٹہ میں صوبائی سنڈیمن ہسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کردیا گیا ہے۔
سیر و تفریح کا سفر موت میں بدل گیا: گوگل میپ کے سہارے غلط راستے پر پہنچنے والا خاندان دہشت گردوں کی گولیوں کا شکار


