لاہور: کیا آپ جانتے ہیں کہ سخت جسمانی ورزش اور ایتھلیٹکس میں مصروف رہنے والے افراد کے دل عام انسانوں سے مختلف ہوتے ہیں؟ ماہرینِ امراضِ قلب کے مطابق، طویل اور شدید جسمانی تربیت کے نتیجے میں دل کے پٹھوں میں آنے والی تبدیلیوں کو ‘ایتھلیٹ ہارٹ سنڈروم’ کہا جاتا ہے، جو کہ کوئی بیماری نہیں بلکہ انسانی جسم کی ایک قدرتی اور مثبت موافقت (Adaptation) ہے۔
ایتھلیٹ ہارٹ دراصل ہے کیا؟
سیفی ہسپتال، کے نامور انٹروینشنل کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر جمیل شاہ کے مطابق، جس طرح مسلسل ورزش سے جسم کے پٹھے مضبوط اور بڑے ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح دل کے پٹھے بھی سخت ورزش کے دوران آکسیجن کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے ‘کنڈیشنڈ’ ہو جاتے ہیں اور ان کی دیواریں موٹی ہو جاتی ہیں۔ اس حالت میں دل کا بائیں حصہ (Left Ventricle) جسم کو زیادہ خون پمپ کرنے کے لیے خود کو بہتر بناتا ہے۔ تقریباً 1 سے 2 فیصد مسابقتی کھلاڑیوں میں یہ تبدیلی دیکھی جاتی ہے۔
کیا یہ خطرناک ہے؟
ڈاکٹر جمیل شاہ کا واضح کہنا ہے کہ ‘ایتھلیٹ ہارٹ’ ایک صحت مند حالت ہے۔ ایسے افراد میں عام طور پر کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں اور انہیں کسی طبی علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ صرف اس بات کی نشانی ہے کہ کھلاڑی کا دل عام انسان کے مقابلے میں زیادہ بہتر اور موثر طریقے سے کام کر رہا ہے۔
ایتھلیٹ ہارٹ بمقابلہ کارڈیو مایوپیتھی (HOCM): فرق کیسے جانیں؟
اکثر لوگ کھلاڑیوں کے دل کی حالت کو ’ہائپر ٹرافک کارڈیو مایوپیتھی‘ (HOCM) سمجھ کر گھبرا جاتے ہیں، جو کہ ایک خطرناک جینیاتی بیماری ہے اور اچانک دل کا دورہ پڑنے کا باعث بن سکتی ہے۔ ڈاکٹر روچیت شاہ نے ان دونوں کے درمیان فرق کرنے کے چند اہم نکات بتائے ہیں:
گہا کا سائز: کھلاڑی کے دل میں بائیں وینٹرکل کی گہا (Cavity) خون کی گنجائش بڑھانے کے لیے وسیع ہو جاتی ہے، جبکہ کارڈیو مایوپیتھی میں یہ گہا معمول سے چھوٹی ہو جاتی ہے۔
پمپنگ کی صلاحیت: کھلاڑیوں کے دل میں ورزش کے دوران خون پمپ کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے، جبکہ کارڈیو مایوپیتھی میں یہ صلاحیت ورزش کے دوران نہیں بڑھتی۔
ڈی کنڈیشننگ: اگر کوئی کھلاڑی چند ہفتے یا مہینے ورزش چھوڑ دے (ڈی کنڈیشننگ)، تو ‘ایتھلیٹ ہارٹ’ کے باعث بڑھا ہوا دل اپنے معمول پر آ سکتا ہے، جبکہ بیماری (کارڈیو مایوپیتھی) کی صورت میں ایسا ممکن نہیں ہوتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایکو کارڈیوگرافی (ECHO) کے ذریعے صورتحال واضح نہ ہو، تو ‘کارڈیک میگنیٹک ریزوننس’ (CMR) امیجنگ کو تشخیص کے لیے ‘گولڈ اسٹینڈرڈ’ سمجھا جاتا ہے۔ یہ ٹیسٹ درست طور پر یہ بتا سکتا ہے کہ دل کا بڑھنا محض تربیت کا نتیجہ ہے یا کسی جینیاتی عارضے کا۔
ڈاکٹر جمیل شاہ نے کھلاڑیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس تبدیلی سے پریشان نہ ہوں، کیونکہ یہ ان کے جسم کی سخت محنت کا ایک مثبت جواب ہے۔ تاہم، کسی بھی شبے کی صورت میں ماہرِ امراضِ قلب سے رجوع کرنا ضروری ہے تاکہ بیماری اور قدرتی موافقت کے درمیان واضح فرق کیا جا سکے۔

