نئی دہلی: تعلیمی نظام کی خامیوں اور پیپر لیک اسکینڈلز کے خلاف ملک بھر میں جاری ’کاکروچ تحریک‘ اب ایک بڑے سیاسی بحران کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ دارالحکومت دہلی کے جنتر منتر پر اتوار کے روز اس وقت حالات مزید سنگین ہو گئے جب نامور ماحولیاتی کارکن اور سماجی اصلاحات کے علمبردار سونم وانگچک نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال شروع کر دی۔
Sonam Wangchuk has begun his hunger strike to seek justice for students and demand the resignation of Dharmendra Pradhan. pic.twitter.com/VE3oZt1YrE
— Abhijeet Dipke (@abhijeet_dipke) June 28, 2026
سونم وانگچک کے ساتھ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی قومی صدر نیہا، جے این یو کے دانش علی اور دیگر ممتاز طلبہ رہنما بھی بھوک ہڑتال میں شامل ہو گئے ہیں۔ احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت لانے اور ذمہ داری کا تعین کرنے میں ناکامی نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے۔
دوسری جانب، اس تحریک کو کسان تنظیموں کی جانب سے بھی غیر متوقع حمایت حاصل ہو گئی ہے۔ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے ترجمان دیپک بالیان کے مطابق، ملک بھر کی 650 سے زائد کسان تنظیمیں اس جدوجہد میں طلبہ کے ساتھ کھڑی ہیں، اور اس حوالے سے دہلی میں ایک بڑی ’کھاپ پنچایت‘ کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے تاکہ حکومت پر دباؤ مزید بڑھایا جا سکے۔
Many farmers’ leaders from UP, Haryana, and Punjab are being placed under house arrest to prevent them from joining us at Jantar Mantar.
— Abhijeet Dipke (@abhijeet_dipke) June 28, 2026
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔پیپر لیک معاملے میں ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کر کے عبرت ناک سزا دی جائے۔امتحانی نظام کو مکمل طور پر شفاف بنایا جائے اور تعلیمی نظام میں بنیادی اصلاحات کی جائیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتے کا الٹی میٹم گزر جانے کے باوجود حکومت کا کوئی بھی نمائندہ بات چیت کے لیے نہیں آیا، جس کے بعد اب یہ تحریک ’آر پار‘ کی لڑائی میں تبدیل ہو چکی ہے۔
فی الحال جنتر منتر کا ماحول انتہائی گرم ہے اور طلبہ، کسانوں اور سماجی کارکنوں کے اس اتحاد نے مرکزی حکومت کے لیے جواب دہی کا شدید دباؤ پیدا کر دیا ہے۔ مظاہرین کا عزم ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، یہ بھوک ہڑتال اور احتجاجی تحریک کسی صورت ختم نہیں کی جائے گی۔

