دبئی + نیویارک: عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں گراوٹ کا تسلسل برقرار ہے، جس کے نتیجے میں قیمتی دھات کی قدر سات ماہ سے زائد عرصے کی نچلی ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہے۔ ڈالر کی بڑھتی ہوئی طاقت اور امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات نے سونے کے خریداروں اور سرمایہ کاروں کے جوش کو ٹھنڈا کر دیا ہے۔
جمعرات کے روز ٹریڈنگ کے دوران اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں مزید 0.4 فیصد کی تنزلی دیکھی گئی، جس کے بعد یہ 3,985.89 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ بدھ کے روز سونا نومبر 2025 کے بعد پہلی بار 4,000 ڈالر فی اونس کی اہم نفسیاتی سطح سے نیچے گر گیا تھا، جو مارکیٹ کے لیے ایک بڑا جھٹکا سمجھا جا رہا ہے۔ اسی طرح، امریکی گولڈ فیوچرز (اگست ڈلیوری) بھی 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 4,001.60 ڈالر فی اونس پر موجود ہیں۔
سونے کے ساتھ ساتھ دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ جاری رہا:
چاندی: 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 57.33 ڈالر فی اونس پر آ گئی۔
پلاٹینم: 0.2 فیصد تنزلی کے بعد 1,575.85 ڈالر فی اونس پر فروخت ہوا۔
پیلیڈیم: واحد دھات جس نے تیزی دکھائی، 0.3 فیصد اضافے سے 1,170.25 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔
مالیاتی امور کے ماہرین کے مطابق، سونے پر دباؤ کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کا مضبوط ہونا ہے۔ جب ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوتا ہے تو دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے سونا خریدنا مہنگا ہو جاتا ہے، جس سے اس کی طلب میں کمی آ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے اشاروں نے سونے جیسی غیر منافع بخش اثاثوں کی کشش کو کم کر دیا ہے۔
سرمایہ کار اب محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور مارکیٹ کے اگلے رجحان کو جانچنے کے لیے امریکی معاشی اعداد و شمار پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

