واشنگٹن : مائیکروسافٹ کے بانی اور دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے بل گیٹس نے امریکی کانگریس کے سامنے دی گئی اپنی خفیہ گواہی میں اعتراف کیا ہے کہ بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین نے ان کے نجی معاملات کو استعمال کرتے ہوئے انہیں "بلیک میل” کرنے کی کوشش کی تھی۔
کانگریس کے سامنے انکشافات
ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی کے سامنے 10 جون کو بند کمرے میں پیش ہونے والے بل گیٹس نے بتایا کہ ایپسٹین کا رویہ انہیں اپنی گرفت میں رکھنے جیسا تھا۔ حال ہی میں جاری ہونے والے گواہی کے ٹرانسکرپٹ کے مطابق، 70 سالہ بل گیٹس نے بتایا کہ ایپسٹین کی ای میلز اور گفتگو سے واضح ہوتا تھا کہ وہ گیٹس کے "ازدواجی تعلقات سے ہٹ کر دیگر معاشقوں” کے بارے میں معلومات کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتا تھا۔
گیٹس نے وضاحت کی، "میں نے کبھی خود کو بلیک میل ہوتے نہیں دیکھا، لیکن جس طرح سے ایپسٹین ای میلز کا مسودہ تیار کر رہا تھا، ایسا لگتا تھا کہ وہ خود یا کسی اور کے ذریعے مجھے بلیک میل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ تاہم، ایسی کوئی بھی ای میل یا پیغام مجھے براہ راست کبھی موصول نہیں ہوا۔”
بل گیٹس نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ ایپسٹین کے مجرمانہ کردار سے لاعلم تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا تعلق ایپسٹین سے 2011 میں شروع ہوا تھا، جس کا مقصد عالمی صحت کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا تھا۔ گیٹس کا کہنا تھا، "میں جانتا تھا کہ ایپسٹین کو جنسی نوعیت کے جرم میں سزا ہوئی تھی، لیکن میں نے کبھی ان کی تفصیلات میں جانے کی کوشش نہیں کی، جو کہ غالباً میری غلطی تھی۔”
رواں سال فروری میں بل گیٹس نے ‘وال اسٹریٹ جرنل’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بھی تسلیم کیا تھا کہ جیفری ایپسٹین سے تعلقات رکھنا ان کی زندگی کی ایک بڑی غلطی تھی۔ گیٹس نے اس دوران دو روسی خواتین کے ساتھ اپنے معاشقوں کا اعتراف تو کیا، لیکن ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں میں کسی بھی قسم کی شمولیت سے سختی سے انکار کیا۔
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جنوری میں جاری ہونے والی ایپسٹین فائلز میں کئی اہم شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف نام کا سامنے آنا کسی کے مجرم ہونے کا ثبوت نہیں، تاہم یہ دستاویزات ان تعلقات کی نقاب کشائی ضرور کرتی ہیں جنہیں ماضی میں اکثر اہم شخصیات نے چھپانے یا مسترد کرنے کی کوشش کی تھی۔

