جیکب آباد رپورٹ مجیب کھوسو
جیکب آباد محرم الحرام کے سلسلے میں سیکیورٹی اقدامات کے نام پر جیکب آباد میں صبح سویرے ہی موبائل فون سروس مکمل طور پر بند کر دی گئی، جس کے باعث شہریوں، تاجروں، طلبہ، مریضوں اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس کی اچانک معطلی نے پورے شہر میں رابطوں کا نظام درہم برہم کرکے رکھ دیا۔شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ جلوس شام کے اوقات میں نکلتے ہیں، پھر صبح سے ہی موبائل فون سروس بند کرنے کا کیا جواز ہے؟ انتظامیہ کی جانب سے پیشگی اطلاع نہ دینے کے باعث عوام کو غیر معمولی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ آن لائن کاروبار، موبائل بینکنگ، ایزی پیسہ، جاز کیش اور دیگر ڈیجیٹل خدمات بھی متاثر ہوئیں۔شہر کے مختلف تجارتی مراکز میں دکاندار ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے جبکہ آن لائن لین دین نہ ہونے کے باعث کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر رہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک اور انٹرنیٹ کی بندش نے روزگار کے مواقع بھی چھین لیے ہیں اور دیہاڑی دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔متاثرہ شہریوں نے سوال اٹھایا کہ اگر سیکیورٹی انتظامات ضروری تھے تو سروس کی بندش کے حوالے سے عوام کو پہلے کیوں آگاہ نہیں کیا گیا؟ ان کا کہنا تھا کہ جدید دور میں موبائل فون صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ روزگار، تجارت، تعلیم اور ہنگامی طبی سہولتوں کا بھی اہم حصہ بن چکا ہے۔شہری، تاجر تنظیموں اور سماجی حلقوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ سیکیورٹی کے نام پر عوام کو مشکلات میں ڈالنے کے بجائے متبادل اور مؤثر انتظامات کیے جائیں تاکہ امن و امان بھی برقرار رہے اور شہریوں کے بنیادی مواصلاتی حقوق بھی متاثر نہ ہوں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کے نام پر بار بار موبائل سروس کی بندش ناقابل قبول ہے، انتظامیہ عوامی مشکلات کا احساس کرے اور ایسی پابندیوں کے دورانیے کو کم سے کم کیا جائے۔

