ریاض+لندن:عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو حیران کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ بالخصوص آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل توقع سے زیادہ تیزی سے بحال ہونے کے باعث رسد (Supply) سے متعلق خدشات دم توڑ گئے ہیں۔
جمعرات کے روز ٹریڈنگ کے دوران خام تیل کے نرخوں میں مزید گراوٹ دیکھی گئی۔ برینٹ کروڈ کے اگست کے معاہدے 40 سینٹ (0.54 فیصد) کی کمی کے بعد 73.34 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کے سودے 27 سینٹ (0.38 فیصد) کی تنزلی کے ساتھ 70.07 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے۔
امریکی وزیر برائے توانائی، کرس رائٹ نے صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل تقریباً جنگ سے پہلے کی سطح تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 20 ملین بیرل سے زائد تیل اس اہم بحری گزرگاہ سے بحفاظت منتقل کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اگرچہ راستے کی مکمل صفائی اور ڈی مائننگ (بارودی سرنگوں کا خاتمہ) کا کام ابھی جاری ہے اور حالات کو مکمل طور پر معمول پر آنے میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں، تاہم مارکیٹ میں سپلائی کے حوالے سے پیدا ہونے والی بے یقینی ختم ہو چکی ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برینٹ کروڈ کے اگست کے معاہدوں کی قیمت کا ستمبر کے معاہدوں سے کم ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قلیل مدتی سپلائی کے حوالے سے مارکیٹ کو اب کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ تیزی سے گرتی ہوئی قیمتوں نے ان سرمایہ کاروں کو شش و پنج میں مبتلا کر دیا ہے جنہوں نے جنگی کشیدگی کے دوران تیل کے مہنگے داموں کی توقع کر رکھی تھی۔
عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کا یہ معمول پر آنا جہاں عالمی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے، وہیں یہ خام تیل کے مہنگے نرخوں سے پریشان صارفین کے لیے بھی ایک بڑی ریلیف ثابت ہو سکتی ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو بریک؛ ایران جنگ کے بعد سپلائی معمول پر آنے سے نرخوں میں نمایاں گراوٹ

