رسول آباد (خصوصی رپورٹ فياض محسن سولنگی
رسول آباد شہر میں قائم سرکاری اسپتال، جو علاقے کے ہزاروں افراد کے لیے علاج کا واحد بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے، انتظامی غفلت، بنیادی سہولیات کی کمی اور عملے کی مبینہ غیر حاضری کے باعث زبوں حالی کی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ اسپتال کی عمارت کئی برسوں سے مرمت نہ ہونے کے باعث انتہائی خستہ حال منظر پیش کر رہی ہے، جبکہ تعینات ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر ملازمین کی غیر حاضری کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ذرائع کے مطابق اسپتال کے مختلف وارڈز، کمرے اور دفاتر دیواروں میں پڑنے والی دراڑوں کے باعث خطرناک صورتحال اختیار کر چکے ہیں۔ چھتوں سے پلستر جھڑ رہا ہے، دیواروں میں بڑی بڑی دراڑیں پڑ چکی ہیں جبکہ کئی مقامات پر فرش بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ بارشوں کے دوران پانی عمارت کے اندر داخل ہو جاتا ہے، جس سے مریضوں، ان کے اہل خانہ اور عملے کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسپتال کے احاطے میں صفائی کی ناقص صورتحال، گندگی کے ڈھیر، جھاڑیوں کی بھرمار اور نکاسی آب کا ناقص نظام بھی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اسپتال میں تعینات ڈاکٹر اکثر غیر حاضر رہتے ہیں جبکہ دیگر طبی عملہ بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ مریضوں کے مطابق وہ صبح سے شام تک علاج کی امید میں اسپتال کے چکر لگاتے ہیں لیکن نہ ڈاکٹر دستیاب ہوتے ہیں اور نہ ہی مناسب طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ متعدد مریض صرف ڈاکٹروں اور عملے کی عدم دستیابی کے باعث نجی کلینکس اور اسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں جہاں انہیں بھاری فیسیں ادا کرنا پڑتی ہیں۔شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ اسپتال میں ضروری ادویات کی شدید قلت ہے۔ مختلف بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو اکثر باہر سے دوائیں خریدنے کا مشورہ دیا جاتا ہے جبکہ لیبارٹری کی محدود سہولیات کے باعث ٹیسٹ بھی نجی لیبارٹریوں سے کروانے پڑتے ہیں۔ ہنگامی صورتحال میں بھی مریضوں کو بروقت اور مناسب طبی امداد میسر نہیں آتی جس سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسپتال کی حالت بہتر نہ بنائی گئی اور عوام کو بنیادی طبی سہولیات فراہم نہ کی گئیں تو وہ احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ عوام نے سندھ حکومت، وزیر صحت، سیکریٹری صحت سندھ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر خیرپور اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ رسول آباد کے سرکاری اسپتال کو تباہی سے بچایا جائے اور عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ غریب اور مستحق افراد علاج کی بنیادی سہولت سے محروم نہ رہیں۔

