Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ناسا کا آرٹیمسIII مشن کے لیے خلابازوں کا اعلان ، چاند پر لینڈنگ ٹیکنالوجی کی پریکٹس کرینگے

      421 گاڑیوں کا مالک ’ماسٹر مائنڈ‘موٹر سائیکل سوار ڈیفالٹر گرفتار، 2 ملین سے زائد جرمانہ عائد!

      بھارتی فضاؤں پر خاموش خطرہ؟ پڑوسی ممالک میں جی پی ایس سپوفینگ مراکز کا انکشاف

      ٹرمپ کو جھٹکا، امریکی عدالت نے ایچ ون بی (H-1B ) ویزا کی درخواست کے لیے ایک لاکھ ڈالر فیس وصولی روک دی

      ایلون مسک تاریخ کے پہلے ‘ٹریلینر’ بننے کو تیار؟ دولت کا حجم ہوش اڑا دینے کے لیے کافی!

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    گوجرانوالہ کے دو "پہلوان” اور پولیسنگ کا بدلتا ہوا معیار

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر: اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
    کہتے ہیں کہ اگر کسی شہر میں جرائم پیشہ عناصر اور بعض مفاد پرست لوگ کسی پولیس افسر سے پریشان ہوں جبکہ عام شہری اس کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کریں تو یہ اس بات کی علامت سمجھی جاتی ہے کہ وہ افسر اپنے فرائض دیانت داری اور جرات مندی سے انجام دے رہا ہے۔ اس کے برعکس اگر عوام کی شکایات کو سنجیدگی سے نمٹانے کے بجائے محض مصالحت کی نذر کر دیا جائے تو سوالات جنم لیتے ہیں اور اعتماد کی فضا متاثر ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کرپشن اتنی عام ہو چکی ہے کہ بعض لوگ اسے نظام کا حصہ سمجھنے لگے ہیں۔ حالانکہ اصل مسئلہ صرف مالی بدعنوانی نہیں بلکہ وہ گٹھ جوڑ ہے جو جرائم پیشہ عناصر، منشیات فروشوں، قبضہ مافیا، ڈاکوؤں اور دیگر قانون شکن عناصر کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ جب کوئی سرکاری اہلکار قانون نافذ کرنے کے بجائے قانون توڑنے والوں کا سہولت کار بن جائے تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ پنجاب پولیس میں ایسے افسران کی کمی نہیں جو مشکل حالات میں بھی قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ گوجرانوالہ کے عوام کی ایک بڑی تعداد سابق سی پی او رانا ایاز سلیم کی کارکردگی کو اسی تناظر میں دیکھتی ہے۔ ان کے دور میں محکمانہ نظم و ضبط، احتساب اور جرائم کے خلاف کارروائیوں کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ یہ تاثر عام تھا کہ اگر کسی تھانے کی حدود میں سنگین جرم پیش آتا تو متعلقہ افسران سے جواب طلبی کی جاتی اور غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاتی۔ رانا ایاز سلیم کے دور میں جرائم پیشہ عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کریک ڈاؤن کو بھی نمایاں حیثیت حاصل رہی۔ یہی وجہ تھی کہ بعض حلقوں میں ان کی سخت پالیسیوں پر تحفظات پائے جاتے تھے، جبکہ عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد اسے قانون کی عملداری کے لیے ضروری قرار دیتی تھی۔ ان کے تبادلے کے بعد بعض لوگوں نے سکھ کا سانس لیا،مگر یہ صورتحال زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ گوجرانوالہ میں ایس ایس پی سردار غیاث گل کی تعیناتی نے پولیسنگ کے اسی تسلسل کو مزید تقویت دی۔ سردار غیاث گل کو ایک ایسے افسر کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو فیلڈ میں متحرک رہتے ہیں اور جرائم کے خلاف واضح مؤقف رکھتے ہیں۔ اس سے قبل اٹک میں ان کی کارکردگی کو بھی جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے حوالے سے سراہا گیا۔ گوجرانوالہ میں تعیناتی کے بعد انہوں نے جرائم پیشہ عناصر، اشتہاریوں اور مختلف مافیاز کے خلاف کارروائیوں کو مزید تیز کیا۔ ان کی پالیسی کا بنیادی نکتہ یہی دکھائی دیتا ہے کہ قانون کی عملداری پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے، چاہے دباؤ کسی بھی جانب سے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مفاد پرست حلقے انہیں سخت افسر قرار دیتے ہیں، جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد اسے مثبت خصوصیت سمجھتی ہے۔ رانا ایاز سلیم اور سردار غیاث گل میں ایک مشترک خوبی یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ دونوں سائلین کی بات براہ راست سنتے ہیں اور دیے گئے احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ عوامی مسائل تک براہ راست رسائی اور جوابدہی کا یہی تصور دراصل جدید پولیسنگ کی بنیاد ہے۔
    گوجرانوالہ کو پہلوانوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں عوام ایسے پولیس افسران کو بھی "پہلوان” قرار دیتے ہیں جو جرائم، سیاسی دباؤ اور محکمانہ بدعنوانی کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ کسی بھی افسر کی کارکردگی کا حتمی فیصلہ تاریخ اور عوام کرتی ہے، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ قانون کی بالادستی کے لیے جرات مند قیادت ہمیشہ یاد رکھی جاتی ہے

    Related Posts

    قتل کے ملز م کو عمر قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا

    ڈی پی او نے موہری پور جلوس روٹ کا تفصیلی جائزہ لیا

    منشیات اور دیگر جرائم کے خلاف سرچ آپریشن

    مقبول خبریں

    جیفری ایپسٹین کا سایہ: بل گیٹس کی خاموشی ختم، امریکی کانگریس کے سامنے ’رازوں‘ سے پردہ اٹھا دیا

    گھونسوں کی بارش، نائٹ کلب کے باہر برطانوی کپتان بین اسٹوکس کی لڑائی کی ویڈیو وائرل

    سپریم کورٹ، بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی کیس کے مرکزی ملزمان بھولا اور زبیر چریا بری

    محبت یا موت کا جال؟ اورنگی ٹاؤن میں نوبیاہتا نوجوان کا قتل، ’’ پولیس والی‘‘ بیوی قاتل نکلی

    بدنام زمانہ ایپسٹین فائلز، بل گیٹس کی کانگرس میں پیشی، بیان ریکارڈ کرائینگے

    بلاگ

    بادشاہ پریشانی میں ہے: پاکستان کی آم کی فصل کیوں سکڑ رہی ہے؟

    ’’مہنگائی کی بلند ترین سطح اور بجٹ‘‘ میاں حبیب کا کالم

    سفید کوٹ، زندہ ضمیر اور دھڑکتے دل،، ڈاکٹر احمد نعمان اور خدمتِ انسانیت کی روایت،قوموں کی اصل طاقت دیانت دار اور دردِ دل رکھنے والے ڈاکٹرز ، مسیحا پروفیسر جواد ظہیر مرحوم کے تبادلہ کی وجوہات ،احمد نعمان کی ٹیم میں شامل ڈاکٹر طارق شکور ، ڈاکٹر فہد اور ڈاکٹر احمد طارق مریضوں کے مسیحا

    تیل، طاقت اور تباہی کے سو دن

    اورہمارے نوجوان اپنے مستقبل سے آخر مایوس کیوں

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.