لاہور:(رپورٹ ملک ظہیر)
لاہور کے علاقے گجرپورہ میں خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے واقعے کا مقدمہ درج ہونے کے بعد ایک بار پھر خواتین کے تحفظ، جرائم کی روک تھام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ نامزد ملزمان کی گرفتاری اور شواہد کے حصول کے لیے کارروائی جاری ہے۔
اس کیس سے متعلق سوشل میڈیا پر ایک مبینہ ویڈیو بھی زیر گردش ہے ۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کے خواتین اور بچوں کے خلاف غیر اخلاقی حرکات پر سخت ایکشن کے بعد جہاں سی سی ڈی اور پنجاب پولیس نے برق رفتاری سے آپریشن کئے لیکن ایسے درندے ابھی باقی ہیں آخر ایسے سنگین جرائم کے ارتکاب کی جرات کیوں پیدا ہوتی ہے؟ اگر کوئی شخص قانون شکنی کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کے پیچھے مختلف سماجی، اخلاقی اور قانونی عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔ ملزمان نے جس انداز میں ویڈیو تیار کی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خاتون کو بلیک میل کرنے کی غرض سے یہ ویڈیو تیار کی جب ویڈیو سوشل میڈیا کی زینت بنی تب خاتون نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرادیا تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ملزمان کسی ادارے یا قانون کے خوف سے مکمل طور پر آزاد تھے، کیونکہ اس کا تعین صرف تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہے۔ ذرائع کے مطابق ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے صرف گرفتاری کافی نہیں بلکہ فوری اور شفاف تفتیش، مؤثر پراسیکیوشن، بروقت عدالتی فیصلے اور معاشرتی شعور بھی ناگزیر ہیں۔
"گجرپورہ میں درندگی کا ایک اور واقعہ: کیا خواتین کے تحفظ کے دعوے صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہیں؟”


