رپورٹ مجیب کھوسو
جیکب آباد بولان محلہ کی رہائشی ایک نوجوان لڑکی نے متعدد افراد پر مبینہ اجتماعی زیادتی، بلیک میلنگ اور دھمکیاں دینے کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے انصاف کی اپیل کی ہے۔متاثرہ لڑکی کے مطابق اس کی واٹس ایپ کے ذریعے ایک نوجوان سے دوستی ہوئی، جس نے محبت اور شادی کا جھانسہ دے کر اسے اپنے گھر بلایا۔ لڑکی کا الزام ہے کہ وہاں پہلے سے کئی دیگر افراد موجود تھے جنہوں نے مبینہ طور پر اسلحے کے زور پر اس کے ساتھ زیادتی کی اور اس دوران اس کی نازیبا ویڈیوز بھی ریکارڈ کیں۔بعد ازاں ملزمان ان ویڈیوز کی بنیاد پر اسے مسلسل بلیک میل کرتے رہے، جبکہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیتے رہے۔ خوف اور بدنامی کے باعث وہ طویل عرصے تک خاموش رہی اور کسی کو واقعے سے آگاہ نہیں کیا۔ بالآخر مسلسل دباؤ اور مبینہ ہراسانی سے تنگ آکر اس نے اپنے والدین کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا، جس کے بعد اس نے انصاف کے حصول کے لیے متعلقہ حکام سے رجوع کیا۔لڑکی نے ایس ایس پی جیکب آباد کیپٹن (ر) فیضان علی اور ضلعی عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور اسے انصاف فراہم کیا جائے۔دوسری جانب اس واقعے کے حوالے سے نامزد یا مبینہ ملزمان کا مؤقف سامنے نہیں آیا، جبکہ پولیس کی جانب سے بھی تاحال باضابطہ تحقیقات یا مقدمے کی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

