اسلام آباد + ریاض :پاکستان و عرب اور مسلم ملکوں کے وزرائے خارجہ نے ایک اور مشترکہ مذمتی بیان جاری کیا ہے۔ یہ مذمتی بیان منگل کے روز سامنے آیا ہے، جس میں اسرائیل میں لا کر بسائے گئے یہودی آباد کاروں کی مسجد اقصیٰ پر چڑھائی کو موضوع بنایا گیا ہے۔
مذمتی بیان دینے والے والے ملکوں میں سعودی عرب، اردن متحدہ عرب امارات، قطر ، انڈونیشیا ، پاکستان ، مصر اور ترکیہ شامل ہیں۔ ان ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں مسجد اقصیٰ پر یہودی آباد کاروں کی تازہ چڑھائی کی مذمات کی ہے اور اسرائیلی پرچم لہرانےکی بھی مذمت کی ہے۔
خیال رہے ان ملکوں میں وہ ملک بھی شامل ہیں جنہوں نے ابراہم معاہدے کے تحت اسرائیل کو ملت ابراہیم کا حصہ مانتے ہوئے یا اس کے بغیر ہی اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔ ان ملکوں میں سعودی عرب ، پاکستان ، قطر اور انڈونیشیا شامل نہیں ہے۔
مشترکہ مذمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ یہودی آباد کاروں کی یہ شر انگیزی نہ صرف اسرائیلی فوج کے زیر سر پرستی کی گئی ہے بلکہ یہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی بھی کھلی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ نیز مسجد اقصیٰ کی تاریخی اور قانونی طور پر مسلمہ پوزیشن کے بھی منافی اقدامات ہیں۔
ان وزراء نے اپنے مشترکہ بیان میں اسرائیل کی جانب سے تواتر کے ساتھ اور منظم انداز مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی اور سماجی حیثیت کو تبدیل کرنےکے اقدامات قابل مذمت ہیں۔ اسرائیل کی یہ منظم کوشش مسلمانوں اور مسیحیوں دونوں کے تاریخٰ مقدس مقامات کی حیثیت تبدیل کرنے کی کارروائیاں قابل مذمت ہیں۔
واضح رہے اسرائیلی فورسز اور یہودی آباد کار کی طرف سے آئے روز اس طرح کے جارحانہ اقدامات دیکھنے میں آتے رہتے ہیں۔ ان ملکوں کی طرف سے بھی ہمیشہ ان واقعات کی مذمت کر دی جاتی ہے۔ مسجد اقصیٰ 144 دونم کے وسیع احاطے پرمشتمل ہے، یہ خالصتآ مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ اس کی تولیت کی ذمہ داری اردن کے پاس ہے۔
پاکستان و عرب ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں اسرائیل کو مسجد اقصیٰ میں یہودی آباد کاروں کی مداخلت اور جارحانہ کارروائیاں کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا پابند قرار دیا۔ ایسا نہ کرنا کشیدگی کے واقعات بڑھانے اور کشیدگی کی آگ پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہے۔ جس کے نتیجے میں عدم استحکام اور انتہا پسندی کو بڑھاوا ملتا ہے۔ جبکہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔
ان ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی اشتعال انگیز کارروائیوں کا فوری تدارک کیا جائے اور اسرائیل مسجد اقصیٰ کے ‘ طے شدہ مقام ‘ یعنی ‘سٹیٹس کو ‘ کا احترام کرے۔
اپنے اس بیان میں وزرائے خارجہ نے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور ان کے حق خود ارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔ نیز ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے مطالبے کو بھی ایک بار پھر دہرایا۔ ایسی آزاد فلسطینی ریاست جو 1867 سے اسرائیلی قبضوں سے پہلے والی سرحدوں کے ساتھ ہو اور مشرقی یروشلم اس کا دارالحکومت ہو۔
بیان میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت سبھی وزرائے خارجہ نے مشترکہ طور پر فلسطینی تنازعے کے دو ریاستی حل پر زور دیا، اس مقصد کے لیے اسرائیل قبضے کے خاتمے کی حمایت کی تاکہ پائیدار اور جامع امن بھی ممکن ہو سکے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات اقوام متحدہ کی قرار دادوں، بین الاقوامی قانون اور ‘عرب پیس انیشیٹو’ کے تحت کیے جانے کا مطالبہ کیا۔
پاکستان اور عرب ممالک کی یہودی آبادکاروں کے مسجد اقصیٰ پردھاوے کی مذمت، خود مختار فلسطین کی حمایت

