واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران امریکاکے ساتھ معاہدہ کرنے کا بھرپور خواہشمند ہے اور یہ ڈیل امریکاسمیت ان تمام ممالک کے لیے بہترین ثابت ہوگی جو ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ٹروتھ سوشل’ (Truth Social) پر اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ متوقع معاہدے کے حوالے سے پرامید رویے کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایران کے ساتھ بات چیت کے عمل میں سست روی اور سمت پر تنقید کرنے والے ڈیموکریٹس اور کچھ ریپبلکنز کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ان کے تبصرے مذاکرات کے عمل کو مشکل بنا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ناقدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، "بس سکون سے بیٹھیں اور انتظار کریں، آخر میں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔”

قبل ازیں امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکااور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے میں بعض ترامیم کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کا مقصد رواں سال کے آغاز میں شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کو یقینی بنانا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مجوزہ تبدیلیاں آبنائے ہرمز اور ایران کے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے انخلا سے متعلق ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے مزید تبصرہ کرنے سے گُریز کیا ہے۔
تاہم ایرانی چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اتوار کے روز کہا کہ تہران کسی ایسے معاہدے پر رضامند نہیں ہوگا جس میں ایران کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی نہ بنایا گیا ہو۔
صدر ٹرمپ اور ان کے سینئر معاونین نے جمعہ کے روز ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے لیے ایک فریم ورک پر ’حتمی فیصلہ‘ کرنے کے مقصد سے اجلاس منعقد کیا، تاہم ملاقات کسی واضح نتیجے یا آئندہ کے لائحۂ عمل کے بغیر ختم ہوگئی
معاہدے کے تازہ ترین مسودے میں 60 روزہ جنگ بندی، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک فریم ورک شامل ہے۔ یہ تفصیلات امریکامیں بی بی سی کے شراکت دار خبر رساں ادارے سی بی ایس نیوز نے رپورٹ کی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگر سفارتی پیش رفت جاری رہتی ہے تو معاہدے میں ایران کے لیے ممکنہ پابندیوں میں نرمی بھی شامل ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تہران کو منجمد کیے گئے اربوں ڈالر کے اثاثوں تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔
اتوار کو سامنے آنے والی یہ نئی ترامیم وائٹ ہاؤس اور تہران کے درمیان جاری کئی روزہ مذاکرات کا تازہ ترین مرحلہ ہیں، جن کا مقصد مہینوں سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے ایک جامع معاہدے کی بنیاد رکھنا ہے۔
یاد رہے کہ جمعرات کو امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ دونوں ممالک ایک ابتدائی فریم ورک، جسے مفاہمتی یادداشت کہا جاتا ہے پر متفق ہو چکے ہیں تاہم اس کی حتمی منظوری صدر ٹرمپ اور ایرانی قیادت کی منظوری سے مشروط ہے۔

