اڑی: سوشل میڈیا پر پروان چڑھنے والی محبت کے جنون میں مبتلا ایک پاکستانی نوجوان نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) عبور کرنے کی کوشش کی، تاہم اسے مقبوضہ کشمیر کے علاقے اڑی میں بھارتی سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لے لیا۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، واقعہ اتوار کی صبح ساڑھے نو بجے کے قریب اڑی سیکٹر کے سلیکوٹ علاقے میں پیش آیا۔ حساس ترین سرحدی علاقے سے ایک نوجوان کو اپنی حدود میں داخل ہوتے دیکھ کر تعینات بھارتی فوجیوں نے اسے فوراً حراست میں لے لیا۔
سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کی گئی ابتدائی تفتیش میں نوجوان نے اپنی شناخت ذیشان احمد میر ولد لال دین میر کے نام سے کرائی۔ اس کے پاس سے ملنے والے پاکستانی شناختی کارڈ سے تصدیق ہوئی کہ اس کا تعلق مظفرآباد کے علاقے پائن کڈی سے ہے۔
محبت کا عجیب و غریب سفر
سرحد پار کرنے کے پیچھے نوجوان کی بتائی گئی وجہ نے حکام کو حیران کر دیا ہے۔ ذیشان نے تفتیشی حکام کو اعتراف کیا کہ وہ اڑی کی رہائشی اپنی محبوبہ ‘ارم بانو’ سے ملنے کے لیے یہ خطرناک راستہ اختیار کر کے سرحد عبور کر آیا۔ ذیشان کا کہنا تھا کہ ان کی ملاقات سوشل میڈیا کے ذریعے ہوئی تھی، جس کے بعد وہ مسلسل رابطے میں رہے اور اسی آن لائن دوستی نے اسے سرحد پار کرنے پر مجبور کیا۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ ذیشان اور ارم بانو، دونوں کو مختلف سیکیورٹی ایجنسیوں کی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ حکام ان کے دعوؤں کی سچائی جانچنے کے لیے دونوں کے موبائل فونز، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ان کے درمیان ہونے والی ڈیجیٹل گفتگو کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اس معاملے کے تمام پہلوؤں کا تعین کیا جا سکے۔
جب محبت نے سب سرحدیں پار کرلیں، کشمیری نوجوان لائن آف کنٹرول پار کرکے مقبوضہ کشمیر پہنچ گیا

