کوالا لمپور: ملائشیا نے یکم جون سے اپنے ملک میں ایک نیا قانون نافذ کر دیا ہے۔ اب 16 سال سے کم عمر کے بچے سوشل میڈیا اکاؤنٹ نہیں بنا سکیں گے۔ فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور دیگر تمام بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو استعمال کرنے سے پہلے عمر کی تصدیق (ایج ویریفکیشن) کرنا لازمی ہوگا۔ 16 سال سے کم عمر والے بچوں کو اکاؤنٹ بنانے سے روکنا ان پلیٹ فارمز کی ذمہ داری ہوگی۔ حکومت کے اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر 25 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس نئے قانون کے مطابق اگر بچے کسی طرح اکاؤنٹ بنا بھی لیتے ہیں تو ان کے والدین کو سزا نہیں دی جائے گی۔
حکومت نے یہ فیصلہ 16 سال سے کم عمر والے بچوں کو سوشل میڈیا سے دور رکھنے کے لیے کیا ہے۔ حکومت کا مقصد بچوں کو خراب مواد، سائبر بُلنگ اور زیادہ دیر تک آن لائن رہنے کی عادت کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ہم بچوں کو انٹرنیٹ سے مکمل طور پر دور نہیں کر رہے بلکہ انہیں محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اب ایسی سہولتیں اور نظام تیار کرنے ہوں گے جو بچوں کو نقصاندہ مواد اور سرگرمیوں سے بچا سکیں۔ اس قانون پر عمل درآمد کے لیے انہیں کچھ وقت بھی دیا گیا ہے۔

