دنیا بھر میں گزشتہ 2 سالوں کے دوران مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے حوالے سے پیدا ہوا ماحول کسی ٹیک انقلاب سے کم نہیں ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ انٹرنیٹ کے بعد یہ سب سے بڑی تبدیلی ہوگی۔ ہر کمپنی اپنے نام کے ساتھ اے آئی جوڑ کر فخر محسوس کر رہی ہے۔ لیکن اب کچھ رپورٹس کے مطابق گوگل، مائیکروسافٹ، اوبر سے لے کر اوپن اے آئی تک نے شاید یہ مان لیا ہے کہ اے آئی تیزی سے مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ مائیکروسافٹ نے کلاڈ کے کئی لائسنس تک منسوخ کر دیے ہیں کیونکہ یہ بہت مہنگا پڑ رہا تھا۔
ایک کمپنی کو چند ماہ میں ہی اے آئی کی جانب سے 500 ملین ڈالر کا بل موصول ہوا۔ اسی طرح اوبر کا بھی سبسکرپشن بجٹ مقررہ وقت سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔ ہر اسٹارٹ اپ سرمایہ کاری بڑھا رہا تھا۔ ہر ٹیک سی ای او کہہ رہا تھا کہ دنیا بدلنے والی ہے لیکن اب 2026 میں پہلی بار ایسا لگ رہا ہے کہ اس کہانی کی چمک پھیکی پڑنے لگی ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک نہیں ہے۔ اے آئی پر بڑھتے ہوئے اخراجات، ریونیو کے واضح ماڈل کی کمی، روزگار کے بڑھتے ہوئے خدشات، عام لوگوں کی مخالفت اور خود ٹیک کمپنیوں کے بدلتے ہوئے بیانات، یہ سب مل کر ایک نیا سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا اے آئی کا بلبلہ آہستہ آہستہ پھوٹنے لگا ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی بڑا ہے کیونکہ تاریخ میں ٹیک دنیا پہلے بھی ایسا دیکھ چکی ہے۔ 1990 کی دہائی میں انٹرنیٹ کے حوالے سے بھی ایسا ہی ماحول تھا۔ ہر کمپنی اپنے آپ کو انٹرنیٹ کمپنی بتا رہی تھی۔ سرمایہ کار بغیر ضروری سوال پوچھے پیسہ لگا رہے تھے۔ پھر اچانک، ڈاٹ کام کا بلبلہ پھوٹ گیا اور ہزاروں کمپنیاں ختم ہوگئیں۔
اسی طرح کی بے چینی آج اے آئی کے بارے میں محسوس کی جا رہی ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ اس کے اخراجات ہیں۔ جب چیٹ جی پی ٹی متعارف کرایا گیا تھا تو عام لوگوں کو صرف اس کا جادو دکھائی دے رہا تھا۔ لوگ سوال پوچھ رہے تھے، تصاویر بنا رہے تھے، کوڈ لکھوا رہے تھے لیکن اس کے پیچھے کتنا پیسہ جل رہا ہے، اس بارے میں کم ہی بات چیت ہوئی۔ در اصل اے آئی کوئی عام سافٹ ویئر نہیں ہے۔ یہ بہت بڑے انفراسٹرکچر پر چلتا ہے۔ ہر سوال کے پیچھے بڑے ڈیٹا سینٹر کام کرتے ہیں۔ ہزاروں مہنگے جی پی یو چپس بجلی کھاتے ہیں، سرور مسلسل چلتے رہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اے آئی کو چلانے کے خرچ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکہ میں کچھ یونیورسٹی پروگراموں میں ٹیک لیڈرس کو طلبا کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ گوگل کے سابق سی ای او ایرک شمٹ کو بھی اے آئی پر بات کرتے وقت ہوٹنگ جھیلنی پڑی۔ خود سندر پچائی سے بواسٹریٹجی یعنی مخالفت سے نپٹنے کی حکمت عملی کے بارے میں سوال پوچھے گئے۔ یہ صرف مذاق یا انٹرنیٹ ٹرولنگ نہیں ہے۔ اس کے پیچھے حقیقی خوف ہے۔ لوگوں کو ڈر لگ رہا ہے کہ اے آئی ان کی نوکریاں کھا جائے گا۔ نئی نسل کو ڈر ہے کہ جس سیکٹر میں وہ کیرئیر بنانا چاہتے ہیں، وہاں مشینیں پہلے پہنچ چکی ہیں، اور یہ ڈر پوری طرح بے بنیاد بھی نہیں ہے۔
کئی کمپنیوں نے حال ہی میں برطرفی کو نافذ کرتے وقت اے آئی کا حوالہ دیا۔ کچھ نے کہا کہ آٹومیشن سے کم لوگوں میں زیادہ کام ہو سکتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ابھی تک اے آئی نے اتنی پیداوار بھی نہیں دکھائی جتنا وعدہ کیا گیا تھا۔ نیشنل بیورو آف اکنامک ریسرچ کے ایک مطالعے سے انکشاف ہوا ہے کہ 90 فیصد کمپنیوں نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی پیداور یا روزگار پر اے آئی کا ابھی تک کوئی خاص اثر نہیں نظر آیا، اس کے باوجود کمپنیاں مستقبل کی امیدوں میں اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں۔

