Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      مصنوعی ذہانت کا انقلاب: کون سی یونیورسٹی ڈگریاں وقعت کھو بیٹھیں گی؟

      ایپل کا پاکستان میں بڑا اقدام:DARAZ پر بطور ’منظورشدہ ری سیلر‘ باضابطہ آغاز

      AIانقلاب کی دستک، اینویڈیا نے پی سی چپ متعارف کرادی

      اے آئی کا بلبلہ پھوٹنے لگا! لاکھوں ملازمین کو فارغ کرنے والی کمپنیاں اخراجات کے بوجھ سے پریشان

      ملائشیا چھوٹے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    اے آئی کا بلبلہ پھوٹنے لگا! لاکھوں ملازمین کو فارغ کرنے والی کمپنیاں اخراجات کے بوجھ سے پریشان

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp
    دنیا بھر میں گزشتہ 2 سالوں کے دوران مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے حوالے سے پیدا ہوا ماحول کسی ٹیک انقلاب سے کم نہیں ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ انٹرنیٹ کے بعد یہ سب سے بڑی تبدیلی ہوگی۔ ہر کمپنی اپنے نام کے ساتھ اے آئی جوڑ کر فخر محسوس کر رہی ہے۔ لیکن اب کچھ رپورٹس کے مطابق گوگل، مائیکروسافٹ، اوبر سے لے کر اوپن اے آئی تک نے شاید یہ مان لیا ہے کہ اے آئی تیزی سے مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ مائیکروسافٹ نے کلاڈ کے کئی لائسنس تک منسوخ کر دیے ہیں کیونکہ یہ بہت مہنگا پڑ رہا تھا۔
    ایک کمپنی کو چند ماہ میں ہی اے آئی کی جانب سے 500 ملین ڈالر کا بل موصول ہوا۔ اسی طرح اوبر کا بھی سبسکرپشن بجٹ مقررہ وقت سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔ ہر اسٹارٹ اپ سرمایہ کاری بڑھا رہا تھا۔ ہر ٹیک سی ای او کہہ رہا تھا کہ دنیا بدلنے والی ہے لیکن اب 2026 میں پہلی بار ایسا لگ رہا ہے کہ اس کہانی کی چمک پھیکی پڑنے لگی ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک نہیں ہے۔ اے آئی پر بڑھتے ہوئے اخراجات، ریونیو کے واضح ماڈل کی کمی، روزگار کے بڑھتے ہوئے خدشات، عام لوگوں کی مخالفت اور خود ٹیک کمپنیوں کے بدلتے ہوئے بیانات، یہ سب مل کر ایک نیا سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا اے آئی کا بلبلہ آہستہ آہستہ پھوٹنے لگا ہے؟
    یہ سوال اس لیے بھی بڑا ہے کیونکہ تاریخ میں ٹیک دنیا پہلے بھی ایسا دیکھ چکی ہے۔ 1990 کی دہائی میں انٹرنیٹ کے حوالے سے بھی ایسا ہی ماحول تھا۔ ہر کمپنی اپنے آپ کو انٹرنیٹ کمپنی بتا رہی تھی۔ سرمایہ کار بغیر ضروری سوال پوچھے پیسہ لگا رہے تھے۔ پھر اچانک، ڈاٹ کام کا بلبلہ پھوٹ گیا اور ہزاروں کمپنیاں ختم ہوگئیں۔
    اسی طرح کی بے چینی آج اے آئی کے بارے میں محسوس کی جا رہی ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ اس کے اخراجات ہیں۔ جب چیٹ جی پی ٹی متعارف کرایا گیا تھا تو عام لوگوں کو صرف اس کا جادو دکھائی دے رہا تھا۔ لوگ سوال پوچھ رہے تھے، تصاویر بنا رہے تھے، کوڈ لکھوا رہے تھے لیکن اس کے پیچھے کتنا پیسہ جل رہا ہے، اس بارے میں کم ہی بات چیت ہوئی۔ در اصل اے آئی کوئی عام سافٹ ویئر نہیں ہے۔ یہ بہت بڑے انفراسٹرکچر پر چلتا ہے۔ ہر سوال کے پیچھے بڑے ڈیٹا سینٹر کام کرتے ہیں۔ ہزاروں مہنگے جی پی یو چپس بجلی کھاتے ہیں، سرور مسلسل چلتے رہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اے آئی کو چلانے کے خرچ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
    امریکہ میں کچھ یونیورسٹی پروگراموں میں ٹیک لیڈرس کو طلبا کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ گوگل کے سابق سی ای او ایرک شمٹ کو بھی اے آئی پر بات کرتے وقت ہوٹنگ جھیلنی پڑی۔ خود سندر پچائی سے بواسٹریٹجی یعنی مخالفت سے نپٹنے کی حکمت عملی کے بارے میں سوال پوچھے گئے۔ یہ صرف مذاق یا انٹرنیٹ ٹرولنگ نہیں ہے۔ اس کے پیچھے حقیقی خوف ہے۔ لوگوں کو ڈر لگ رہا ہے کہ اے آئی ان کی نوکریاں کھا جائے گا۔ نئی نسل کو ڈر ہے کہ جس سیکٹر میں وہ کیرئیر بنانا چاہتے ہیں، وہاں مشینیں پہلے پہنچ چکی ہیں، اور یہ ڈر پوری طرح بے بنیاد بھی نہیں ہے۔
    کئی کمپنیوں نے حال ہی میں برطرفی کو نافذ کرتے وقت اے آئی کا حوالہ دیا۔ کچھ نے کہا کہ آٹومیشن سے کم لوگوں میں زیادہ کام ہو سکتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ابھی تک اے آئی نے اتنی پیداوار بھی نہیں دکھائی جتنا وعدہ کیا گیا تھا۔ نیشنل بیورو آف اکنامک ریسرچ کے ایک مطالعے سے انکشاف ہوا ہے کہ 90 فیصد کمپنیوں نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی پیداور یا روزگار پر اے آئی کا ابھی تک کوئی خاص اثر نہیں نظر آیا، اس کے باوجود کمپنیاں مستقبل کی امیدوں میں اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں۔

    Related Posts

    پاکستان کشیدگی کم کرنے،جنگ بندی برقراررکھنےکی کوشش جاری رکھے، ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کااسحاق ڈار کوفون

    پاکستان کو ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2028 کی میزبانی مل گئی، بھارت کی ہٹ دھرمی برقرار

    لبنان پر اسرائیلی حملے: ایران نے امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات معطل کر دیے، تیل کی قیمتوں میں تیزی

    مقبول خبریں

    پاکستان کشیدگی کم کرنے،جنگ بندی برقراررکھنےکی کوشش جاری رکھے، ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کااسحاق ڈار کوفون

    پاکستان کو ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2028 کی میزبانی مل گئی، بھارت کی ہٹ دھرمی برقرار

    لبنان پر اسرائیلی حملے: ایران نے امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات معطل کر دیے، تیل کی قیمتوں میں تیزی

    پنجاب پولیس تبادلوں کا امکان، دو آر پی اوز اور دو ڈی پی اوز کی تبدیلی زیر غور

    COCKROACH IS BACK: ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کے بانی کا  امریکا سے واپسی اوراحتجاج کا اعلان

    بلاگ

    ”بیوروکریسی کو داغدار کرتے ٹک ٹاکر افسران“ ملک محمد سلمان کا کالم

    اورہمارا یہ گندہ و بدبو دار طبقاتی نظام

    ابراہیمی معاہدے: مسلم دنیا بدل رہی ہے، پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

    "کبھی ہمارے گھر بھی آئیے” کیا ہم خاندانی رشتوں کی گرم جوشی کھو رہے ہیں‘‘؟

    ٹیکس زدہ معیشت اور مہنگائی میں پسنے والی عوام

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.