ٹانک( بیورورپورٹ )ٹانک میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی۔ ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈر مبینہ طور پر مسلح گروہوں کی نگرانی میں من پسند افراد کو دیے جا رہے ہیں، ان خیالات کا اظہار سابق ایم پی اے محمود احمد خان بیٹنی نے میڈیا کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ امن کمیٹی آخر صرف ترقیاتی منصوبوں میں کمیشن لینے تک محدود کیوں ہو چکی ہے
محکمہ ایریگیشن میں ایکسین اشرف گنڈہ پور نے مبینہ طور پر اندھیر نگری قائم کر رکھی ہے۔ من پسند ٹھیکیدار کو ٹھیکہ نہ ملنے پر 12 تاریخ کو ہونے والا ٹینڈر خلافِ قانون منسوخ کیا گیا، جبکہ 14 تاریخ کو ہونے والے ٹینڈرز کے حوالے سے بھی ٹھیکیداروں کو مبینہ طور پر مسلح گروہوں کے ذریعے دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ وہ اپنے ٹینڈر واپس لے لیں تاکہ مخصوص ٹھیکیداروں کو نوازا جا سکے۔
ایف آر ٹانک اور درہ زندہ میں کروڑوں روپے کے ترقیاتی فنڈز صرف کاغذی کارروائیوں کے ذریعے ہڑپ کیے جانے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں، جبکہ کرپشن کے خلاف کام کرنے والے تحقیقاتی اداروں کی خاموشی لمحۂ فکریہ ہے۔
صوبائی حکومت فوری طور پر ٹانک میں جاری اس مبینہ بدعنوانی، دھونس اور غیر قانونی اقدامات کا نوٹس لے اور شفاف تحقیقات یقینی بنائے۔
ٹانک میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہیمحمود احمد خان بیٹنی

