کراچی: طبی ماہرین نے جگر کو انسانی جسم کا ایک اہم ترین عضو قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کی کارکردگی کو برقرار رکھنے کے لیے غذائی عادات اور طرز زندگی میں فوری اور مثبت تبدیلیاں لانا ناگزیر ہے۔ جگر جسم میں خوراک کے ہضم، غذائی اجزاء کے اخراج اور زہریلے مادوں کو بے اثر کرنے کے لیے دن میں 24 گھنٹے مسلسل کام کرتا ہے، اس لیے اس کی حفاظت پر خصوصی توجہ دی جائے
جگر کو نقصان پہنچانے والی عادات
ماہرین کے مطابق موجودہ دور کا غذائی طرز عمل جگر کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
- جنک فوڈ اور فاسٹ فوڈ: برگر، پیزا اور چپس جیسے کھانے، جو سیر شدہ چکنائی (Saturated Fats) سے بھرپور ہوتے ہیں، جگر کے کام کو سست کر دیتے ہیں۔ نیشنل لائبریری آف میڈیسن کی تحقیق کے مطابق، فاسٹ فوڈ اور سافٹ ڈرنکس کا زیادہ استعمال وزن میں اضافے کا باعث بنتا ہے، جو طویل مدت میں جگر پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے اور اس کے ٹشوز کو سخت کر سکتا ہے۔
- چینی کا بے دریغ استعمال: چینی کی زیادہ مقدار جگر میں چربی (Fat) کی صورت میں ذخیرہ ہو جاتی ہے، جو جگر کی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔
- الکحل (شراب نوشی): ماہرین نے الکحل کو جگر کا سب سے بڑا دشمن قرار دیا ہے۔ یہ جگر کو بتدریج سخت کر دیتا ہے۔ اگرچہ جگر میں نئے خلیات بنانے کی صلاحیت ہوتی ہے، لیکن یو کے این ایچ ایس (NHS.uk) کی تحقیق کے مطابق، مسلسل شراب نوشی اس کی تخلیق نو کی صلاحیت کو نمایاں طور پر کم کر دیتی ہے۔
- نمک کی زیادتی: سوڈیم کی زیادہ مقدار، جو عام طور پر پروسیسڈ اسنیکس اور باہر کے کھانوں میں پائی جاتی ہے، جگر کو نقصان پہنچا سکتی
جگر کو توانا رکھنے والی غذائیں
بروکولی اور ہری سبزیاں: متعدد مطالعات سے ثابت ہے کہ بروکولی جگر کے گرد چربی جمع ہونے سے روکتی ہے۔ اسے تھوڑے سے تیل میں بھون کر یا دیگر سبزیوں کے ساتھ ملا کر کھایا جا سکتا ہے۔ کلیولینڈ کلینک کی تحقیق کے مطابق، پالک اور میتھی جیسی پتوں والی سبزیوں میں وٹامن K اور ‘گلوٹاتھیون’ نامی اینٹی آکسیڈنٹ ہوتا ہے، جو جگر کے افعال کو ہموار بناتا ہے۔
فائبر کا استعمال:جوار، باجرہ اور راگی جیسے غیر پالش شدہ اناج، دالیں، پھل اور سبزیاں فائبر کا بہترین ذریعہ ہیں۔ فائبر جگر کو سائروسیس جیسی سنگین بیماریوں سے بچاتا ہے اور موت کے خطرے کو کم کرتا ہے
گری دار میوے: بادام اور دیگر میوے وٹامن ای سے بھرپور ہوتے ہیں، جو جگر میں چربی جمع ہونے سے روکتے ہیں اور دل کی صحت کے لیے بھی مفید ہیں۔ پانی کا انتخاب: ماہرین کا مشورہ ہے کہ سافٹ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس کے بجائے پانی کو ترجیح دیں تاکہ اضافی کیلوریز سے بچا جا سکے اور جسمانی وزن کنٹرول میں رہے۔طبی ماہرین نے زور دیا ہے کہ جگر کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے ان احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا ہر فرد کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ طویل اور صحت مند زندگی گزار سکے۔

