قاضی احمد رپورٹ: سائیں بخش لاکھو
قاضی احمد تعلقہ کی یو سی میر محمد جونو کے سرکاری اسکول کی خستہ حال عمارت کسی بڑے حادثے کی منتظر
قاضی احمد ڪ تعلقہ کی بڑی یونین کونسل میر محمد جونو کی دیہہ ڈگھ میں واقع گاؤں سٻڙ خان رند کا سرکاری اسکول اس وقت انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کرچکا ہے۔ ضیاء الحق دور میں تعمیر ہونے والی یہ پرانی عمارت اب مکمل طور پر خستہ حال ہوچکی ہے، جہاں اسکول کی چھت کے چاپڑ ہر وقت گرنے لگے ہیں جبکہ دیواروں میں بھی بڑے بڑے شگاف پڑ چکے ہیں۔ ایسی صورتحال میں معصوم بچے اور اساتذہ روزانہ موت کے سائے تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں افسوس کی بات یہ ہے کہ کئی مرتبہ متعلقہ حکام، محکمہ تعلیم اور منتخب نمائندوں کی توجہ اس سنگین مسئلے کی جانب دلائی گئی، مگر آج تک نہ مرمتی کام شروع ہوسکا اور نہ ہی نئی عمارت کی منظوری دی گئی۔ خدا نخواستہ اگر کوئی بڑا حادثہ پیش آتا ہے تو اس کی ذمہ داری براہِ راست محکمہ تعلیم اور بے حس انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
مکینوں، والدین اور سماجی حلقوں نے سخت مطالبہ کیا ہے کہ اسکول کی عمارت کو فوری طور پر خطرناک قرار دے کر نئی بلڈنگ کی منظوری دی جائے یا ہنگامی بنیادوں پر مرمت کرا کے بچوں اور اساتذہ کی زندگیاں محفوظ بنائی جائیں۔ تعلیم جیسے مقدس شعبے کے ساتھ ایسی غفلت کسی صورت قابل قبول نہیں۔
حکومت سندھ، محکمہ تعلیم اور ضلع انتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے فوری ہنگامی اقدامات کیے جائیں اور سٻڙ خان رند کے اسکول کو تباہی سے بچایا جائے، کیونکہ کسی بھی حادثے کے بعد صرف افسوس ہی باقی رہ جائے گا۔

