راولپنڈی :پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے اعلیٰ افسران کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے معرکہ حق کی کامیابی کا ایک سال مکمل ہونے پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل اور رحمت سے مسلح افواج قوم کی امنگوں پر ہمیشہ کی طرح اس بار بھی پوری اتری ہیں اور ہم نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو ہر محاذ پر عبرتناک شکست دے کر اس کا غرور خاک میں ملا دیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعرات کو میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ معرکہ حق میں جو کچھ ہوا وہ نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت کا بچہ بچہ بھی جانتا ہے، اگرچہ وہ اسے تسلیم کرنے سے کتراتے ہیں۔
ترجمان پاک فوج نے بھارت کی فوجی اور سیاسی قیادت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت کی ملٹری جو کبھی پروفیشنل کہلاتی تھی اب مکمل طور پر سیاسی ہو چکی ہے، بھارت کے سیاست دان، سیاست دان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ’پہلگام واقعے کو ایک سال مکمل ہو گیا لیکن پاکستان نے جو سوالات اٹھائے تھے وہ اب بھی جوں کے توں موجود ہیں، جواب دیں کون لوگ تھے جنھوں نے یہ کروایا اور انڈیا بتائے اس نے کس دہشتگرد کیمپ کو نشانہ بنایا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’انڈیا کی آرمی پروفیشنل تھی جو آج سیاست ذدہ ہو گئی ہے۔ پاکستان اور اس کی قیادت خطے میں امن کے قیام کی کوششیں کر رہی ہے۔ پاکستان کی پولیٹیکوملٹری ڈپلومیسی(سیاسی ملٹری سفارتکاری) آج دنیا دیکھ رہی ہے۔‘
انہوں نے دو ٹوک لہجے میں کہا کہ اگر یہی زبان استعمال کرنی ہے تو پھر آؤ سامنے جو کرنا ہے کرو، روایتی یا غیر روایتی، ہم کھڑے ہیں، بھرپور طاقت سے جواب دیں گے، یہ جنگ زمین، فضا، سمندر، سائبر اور ذہنوں میں ہے۔ اور ان کے سیاستدان جنگ جو لگتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت خود کو دنیا کے سامنے نیٹ سیکیورٹی پرووائڈر کے طور پر پیش کرتا رہا ہے لیکن حقیقت میں بھارت خود سب سے بڑا دہشت گرد ہے جو مقبوضہ کشمیر میں معصوم عوام پر بدترین مظالم ڈھا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے پاکستان پر دہشت گردی کا جھوٹا الزام لگاتا ہے لیکن اب دنیا اس کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں پاکستانی افواج کی ممکنہ طاقت کے حوالے سے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ’معرکہ حق میں جو کچھ انڈیا نے دیکھا وہ ہمارا مجموعی طاقت کا 10 سے 15 فیصد تھا۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ’ ہم تب بھی تیار تھے اور اب بھی تیار ہیں، کسی کو شک ہے تو جان لیں کہ اپنی طاقت کی ایک قسط ہم نے دکھائی ہے۔ اس بار 14اگست پر عظیم الشان پریڈ ہوگی، اپنی پاور پوٹینشل کی چھوٹی سی جھلک عوام کو دکھائیں گے۔‘
پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق ’انڈیا کے لیے واضح اور دو ٹوک پیغام ہے کہ جو کرنا ہے کریں، چاہے وہ روایتی ہو یا غیر روایتی، ہم یہیں کھڑے ہیں، پوری بھرپور طاقت سے جواب دیں گے۔‘
ان کے مطابق ’یہ جنگ زمین، فضا، سمندر، سائبر اور ذہنوں میں ہے، ہم پہلے بھی تیار تھے اور اب بھی تیار ہیں، کوئی پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، پاکستان کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ’جس طرح سعودی عرب کے لیے تھریٹ ہمارے لیے خطرہ ہے ایسے ہی سعودی عرب کو بھی پاکستان کی سلامتی عزیز ہے۔ بات ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک صحافی کے اس سوال کے جواب میں کہی جس میں ان سے پوچھا گیا کہ کیا انڈیا اور پاکستان کی مستقبل میں کسی جارحیت کی صورت میں سعودی عرب کیا پاکستان کی مدد کر سکے گا؟
اس پر پاکستانی فوج کے ترجمان کا دعویٰ تھا کہ ’سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی کئی جہتیں ہیں جو دہائیوں سے قائم ہیں۔‘ ’محافظین حرمین شریفین کا اعزاز پاکستان کے ہر شخص کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے کہ حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے پاکستان اور اس کی فوج کو چنا اور سعودی عرب کی قومی سلامتی بھی حرمین شریفین سے جڑی ہے۔ان کے مطابق ’جس طرح ہمیں سعودی عرب کی سکیورٹی اور سلامتی عزیز ہے بالکل ایسے ہی پاکستان کی سلامتی اور سکیورٹی سعودی عرب کو بھی عزیز ہے۔ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اللہ کے حکم کے مطابق اپنا عہد پورا کرنے والے لوگ ہیں اور جو وعدہ ہم نے کیا اس کو پورا کرنے والے لوگ ہیں۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ پریس کانفرنس میں پاکستانی فوج کے ڈپٹی چیف آف ایئر سٹاف نے دعویٰ کیا ہے کہ ’معرکہ حق میں انڈیا کے چار رافیل طیاروں سمیت آٹھ طیارے مار گرائے ہیں اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا سکور 8-0 ہے۔‘
انھوں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ معرکہ حق میں ایک ایس یو 30، ایک مگ 29، ایک معراج طیارہ اور ایک انتہائی مہنگا ملٹی رول ڈرون مار گرایا گیا۔
انھوں نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’مار گرائے 29 اپریل کو چار رافیل طیاروں نے کشمیر ریجن میں داخلے کی کوشش کی۔ ہم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دشمن کو بھاگنے پر مجبور کیا۔انھوں نے انڈیا کے میڈیا کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا کا نیوز میڈیا اچھی خاصی تفریح فراہم کر دیتا ہے اور یہی کام معرکہ حق کے دوران انھوں نے کیا۔ انڈیا کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ سچ بولنا سیکھے۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’انڈیا نے پہلے بھی پراکسیز لانچ کیں اور اب بھی وہ یہی کام کر رہا ہے۔‘
ان کے مطابق ’دشمن کو پاکستانی افواج نے ملٹی ڈومین وار میں شسکت دی، یہ بات انڈیا کا بچہ بچہ جانتا ہے لیکن یہ الگ بات ہے کہ وہ اسے تسلیم نہیں کرتے۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ’یہ جنگ ہوا میں بھی ہے، سمندر، سائبر اور ذہنوں میں بھی، ہم نے انڈیا کی جارحیت کا چند گھنٹوں میں مؤثر جواب دیا، دو جوہری طاقتوں میں جنگ کی کوئی گنجائش نہیں، دو نیوکلیئر ریاستوں کے درمیان جنگ پاگل پن ہے۔‘
مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں۔ دہشت گردی وہ ہے جو انڈیاj۔مقبوضہ کشمیر میں کروا رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ گزشتہ سال اکتوبر تک پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات بڑھتے رہے اور اس کے خاتمے کے لیے پاکستان کی آرمی نے آپریشنز کیے اور دہشت گردی کا راستہ روکا اور اس دوران اس میں 1800دہشت گرد مارے ۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ جب انڈیا کو شکست دی تو سب سے پہلے ان کے پاس’اسلام کے نام نہاد افغانستان کے وزیر خارجہ گئے۔ انڈیا اور افغانستان بری طرح ایکسپوز ہوئے ہیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ہم انڈیا کے دہشت گردی کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہیں اور اس کو فخر سے دکھاتے بھی ہیں۔
اس موقع پر ریئر ایڈمرل شفاعت علی خان نے کہا کہ ’انڈیا نے گزشتہ سال مئی میں اپنا بیڑا تعینات کرنے کی کوشش کی جو ہر طرح سے لیس تھا۔ انڈیا کو اپنی بحری طاقر ہر ناز تھا تاہم اس کی ہمت نہ ہوئی کہ وہ جارحیت کر سکے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے بحری اثاثے مسلسل سمندر میں موجود ہیں۔ امن ہو یا جنگ اپنی خود مختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

