تہران :ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ انھوں نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی ہے۔
یہ ملاقات کب ہوئی، اس حوالے سے ایرانی صدر نے کوئی تفصیلات تو نہیں بتائی تاہم انھوں نے کہا ہے کہ یہ ملاقات ’ڈھائی گھنٹے‘ تک جاری رہی۔
تہران کی وزارت صنعت کی ایک تقریب میں ایرانی صدر نے کہا کہ ’اس ملاقات میں جو چیز میرے لیے نمایاں رہی وہ رہبر اعلیٰ کا تصادم کا انداز، نقطہ نظر اور ان کا عاجزانہ اور گہرا مخلصانہ رویہ تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ خامنہ ای کے نقطہ نظر نے بحث کو "اعتماد، پرسکون، ہمدردی اور براہ راست بات چیت پر مبنی ماحول” میں بدل دیا۔
پیزشکیان نے اجلاس کو قیادت کے اندر اتحاد کی ضرورت سے بھی جوڑا، کہا کہ خامنہ ای کا طرز عمل ملک کے انتظامی نظام کے لیے ایک نمونہ کا کام کر سکتا ہے۔‘
واضح رہے کہ امریکی اور اسرائیلی بمباری میں علی خامنہ ای کی ہلاکت کے ایک ہفتے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا سپریم لیڈر بنایا گیا تھا۔
اس کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای کا کوئی آڈیو یا ویڈیو پیغام جاری نہیں کیا گیا اور ایرانی میڈیا نے صرف ان کے تحریری پیغامات شائع کیے ہیں۔بعض اطلاعات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی رہائش گاہ پر حملے کے دوران زخمی ہوئے تھے۔

