واشنگٹن / تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران ایک بڑے معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں۔ بدھ کے روز پی بی ایس (PBS) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے پرامید لہجے میں کہا کہ اس جنگ اور کشیدگی کے خاتمے کے قوی امکانات ہیں، تاہم انہوں نے تہران کو سخت وارننگ بھی دے ڈالی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے مخصوص انداز میں بات کرتے ہوئے کہا:
"مجھے لگتا ہے کہ اس (کشیدگی) کے ختم ہونے کا بہت اچھا موقع ہے۔ لیکن اگر یہ ختم نہ ہوا، تو ہمیں واپس جا کر ان کا برا حشر کرنا پڑے گا۔ میں پہلے بھی ان کے بارے میں یہی محسوس کرتا تھا، اب دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔” صحافی نیویارک پوسٹ نے سوال کیا کہ کیا ہم امریکا ایران مذاکرات سے متعلق دوبارہ پاکستان جائیں گے؟ صدر ٹرمپ نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان جانے سے متعلق ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا۔
یہ سوچنا قبل ازوقت ہے کہ امریکا ایران دوبارہ براہ راست مذاکرات کریں گے۔
ایران نے اگر شرائط تسلیم کیں تو آپریشن ایپک فیوری ختم ہوجائے گا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے قریب ہوں، ہوسکتا ہے کہ اگلے ہفتے دورہ چین سے پہلے معاہدہ ہوجائے۔وٹکوف اور جیرڈ کشنرکو مذاکرات کیلئے بھیجنے کا امکان نہیں ہے، اگر ایران سے ڈیل نہیں ہوتی تو پھر دوبارہ بمباری شروع کرسکتے ہیں۔ اب حملے پہلے سے زیادہ سخت اور تباہ کن ہوں گے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے تحت ایران کو اپنا افزودہ یورینیم کا ذخیرہ امریکا کے حوالے کرنا ہوگا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکا یہ ذخیرہ حاصل کر لے گا، تو انہوں نے پر اعتماد انداز میں جواب دیا، "ہم اسے حاصل کر لیں گے۔”
مجوزہ معاہدے کی اہم شرائط میں شامل ہے کہ:
نمبر 1:ایران اپنا تمام افزودہ یورینیم واشنگٹن کے حوالے کرے گا۔
نمبر 2:تہران اپنی زیرِ زمین جوہری تنصیبات کو بند کرنے کا پابند ہوگا۔
ایران طویل عرصے تک صرف ‘خیر سگالی’ (Goodwill) کے تحت کام کرے گا۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، دونوں ممالک ایک عبوری فریم ورک کے ذریعے مذاکرات کی بحالی کے قریب ہیں۔ ثالثی کرنے والے ماہرین ایک ‘ایک صفحے کی یادداشت’ (Memorandum) پر کام کر رہے ہیں جو اگلے ایک ماہ تک مذاکرات کی سمت طے کرے گی۔ اگرچہ یہ ایک عارضی سفارتی طریقہ کار ہے، لیکن اسے باقاعدہ بات چیت کے آغاز کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ‘ایسنا’ (ISNA) نیوز ایجنسی کو بتایا کہ تہران اس وقت امریکی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق، ایران اپنی رائے سے ثالث (Mediator) یعنی پاکستان کو آگاہ کرے گا۔ پاکستان اس وقت دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کی ترسیل اور مذاکرات کی میز سجانے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں جانب سے مثبت اشارے مل رہے ہیں، لیکن کئی بڑے تنازعات اب بھی حل طلب ہیں اور مذاکرات کی یہ صورتحال تاحال نازک بنی ہوئی ہے۔

