نئی دہلی (شوبزڈیسک)60 کی دہائی کی وہ خوبصورت اداکارہ، جس نے پہلی ہی فلم سے لوگوں کو اپنا دیوانہ بنا دیا تھا۔ بڑے بڑے ستاروں کے ساتھ کام کیا، شاندار بنگلے میں رہتی تھی اور ایک فلم کے لیے لاکھوں روپے فیس لیتی تھی۔ لیکن چمکتی روشنیوں کے پیچھے اس کی زندگی درد سے بھری ہوئی تھی۔ شادی کے بعد اسے شوہر کی مار پیٹ اور بے عزتی سہنی پڑی۔ جب رشتے ٹوٹے تو اسے لگا کہ شاید نیا پیار زندگی بدل دے گا، مگر وہاں بھی اسے صرف استعمال اور دھوکہ ملا۔ آہستہ آہستہ کیریئر ختم ہوا، پیسے ختم ہوئے اور زندگی ایسی دلدل میں جا پھنسی، جہاں سے نکلنا ناممکن ہو گیا۔ کبھی کروڑوں دلوں پر راج کرنے والی یہ اداکارہ آخر میں اتنی اکیلی ہو گئی کہ موت کے بعد بھی اس کے ساتھ کوئی اپنا نہیں تھا۔
بالی ووڈ کے سنہری دور کی ایک ایسی اداکارہ، جنہوں نے راتوں رات شہرت حاصل کی۔ لیکن چند ہی سالوں میں معاشی بحران، گھریلو تشدد، استحصال اور تنہائی کی زندگی جیتے ہوئے محض 34 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ ان کا نام وملیش کور وادھوان تھا جو بالی ووڈ میں ویمی کے نام سے پہچانی گئیں۔ بی آر چوپڑا کی بلاک بسٹر فلم ہمراز (1967) سے مشہور ہونے والی ویمی کی زندگی کا انجام بے حد دردناک رہا۔ اسی لیے وہ بالی ووڈ میں بدقسمت اداکارہ کہلائیں۔
ویمی کی پیدائش جنوری 1943 میں جالندھر (پنجاب) میں ایک پنجابی سکھ خاندان میں ہوئی تھی۔ انہوں نے ممبئی کے صوفیہ کالج سے نفسیات میں گریجویشن مکمل کیا اور بزنس مین شیو اگروال سے شادی کر لی۔ ویمی پہلے سے شادی شدہ تھیں اور دو بچوں کی ماں تھیں، تب ہی بالی ووڈ میں انہوں نے قدم رکھا۔ 1967 میں بی آر چوپڑا کے بینر تلے بنی فلم ہمراز میں کام کرنے کا موقع ملا۔ پہلی ہی فلم سپر ہٹ رہی اور ویمی راتوں رات اسٹار بن گئیں۔

